خیبر پختونخوا میں سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے باوجود درجنوں سکول غیر فعال نکلے، جبکہ فعال سکولوں کے اعداد و شمار پر بھی سوالات اٹھ گئے، جس پر حکومت نے فزیکل ویری فکیشن کا فیصلہ کر لیا۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے باوجود صوبے میں تعلیمی صورتحال پر سوالات اٹھ گئے ہیں، کیونکہ بڑی تعداد میں سکول غیر فعال ہیں جبکہ فعال قرار دیے گئے سکولوں کے اعداد و شمار بھی متنازع بن گئے ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ونٹر زون کے 210 سکول آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں، جبکہ سمر زون کے مزید 290 سکولوں کی آؤٹ سورسنگ جاری ہے، تاہم زمینی حقائق اس دعوے سے مختلف نظر آتے ہیں۔
اس دوران ثابت ہوتا ہے کہ صرف 146 سکول فعال جبکہ 64 غیر فعال ہیں، خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مطابق آؤٹ سورس کیے گئے 210 سکولوں میں سے صرف 146 سکول فعال جبکہ 64 سکول غیر فعال ہیں، یہ صورتحال حکومتی تعلیمی اصلاحات پر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق 64 غیر فعال سکولوں میں سے 53 سکول عمارتوں کی خستہ حالی، چار دیواری، کم کمروں اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث بند، 4 سکول رسائی کے مسائل کا شکار، 2 سکول سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں واقع، 3 سکول ایسے علاقوں میں جہاں طلبہ کی آمد ممکن نہیں۔
ہری پور، خیبر اور اپر دیر کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران نے اجلاس میں فعال سکولوں کے اعداد و شمار پر سوالات اٹھائے، افسران کے مطابق متعدد مسائل کے باوجود اتنی کم مدت میں اسکولوں کا مکمل فعال ہونا قابلِ غور ہے، زمینی حقائق اور فراہم کردہ ڈیٹا میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اعداد و شمار پر اعتراضات کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ آؤٹ سورس سکولوں کی فزیکل تصدیق کی جائے گی، زمینی حقائق کی روشنی میں حقیقی صورتحال سامنے لائی جائے گی، یہ اقدام اسکول آؤٹ سورسنگ منصوبے کی شفافیت کو جانچنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

