باجوڑ: کٹ کوٹ میں افغان جارحیت کا نشانہ بننے والے شہداء کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران، قبائلی عمائدین اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر فضا سوگوار رہی اور شرکاء نے افغان طالبان کی جانب سے سول آبادی کو نشانہ بنانے کے عمل کی شدید مذمت کی۔

نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام نے متاثرہ گھر کا دورہ کیا اور سوگوار خاندان سے ملاقات کی۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور لواحقین کو یقین دلایا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ریاست اور سیکیورٹی ادارے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حکام نے زخمیوں کی بہترین طبی امداد اور متاثرہ خاندان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سرحد پار سے افغان طالبان نے کٹ کوٹ کی شہری آبادی پر بلا اشتعال گولہ باری کی تھی، جس کے نتیجے میں ایک گولہ مقامی شہری کے گھر پر گرا۔ اس افسوسناک واقعے میں ایک ہی خاندان کے دو معصوم بچوں سمیت تین افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے، جبکہ تین افراد شدید زخمی ہوئے جو تاحال ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
باجوڑ کے مکینوں نے اس بزدلانہ کارروائی پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا کسی طور قابل قبول نہیں۔

مقامی عمائدین نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی حدود کی حفاظت اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فورسز ہمہ وقت چوکس ہیں اور کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں۔


