وزیرستان ٹائمزوزیرستان ٹائمز
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • قبائلی اضلاع / خیبر پختونخوا
  • کالم / بلاگز
  • کھیل و ثقافت
  • ماحولیات
  • ہمارے بارے میں
وزیرستان ٹائمزوزیرستان ٹائمز
  • صفحۃ اول
  • پختونخوا
  • قومی
  • کالم
  • ماحولیات
  • ہمارے بارے میں
Search
  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • قبائلی اضلاع / خیبر پختونخوا
  • کالم / بلاگز
  • کھیل و ثقافت
  • ماحولیات
  • ہمارے بارے میں
Follow US

ہری پور کی پانچ سالہ آیت نور کے بعد سوال اگلا بچہ کون بچائے گا؟

ishaq burki اسحاق برکی
اسحاق برکی
اگست 30, 2026
شیئر کریں

ہری پور کی پانچ سالہ آیت نور کی موت نے ایک سوال چھوڑا ہے۔ کیا ہم ہر سانحے کے بعد صرف ملزم تلاش کریں گے یا اگلے بچے کو محفوظ رکھنے کا نظام بھی بنائیں گے؟آیت نور کے مبینہ اغوا جنسی زیادتی اور قتل سے اس کے خاندان کو شدید صدمہ پہنچا۔ لیکن اس واقعے نے پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے قوانین پر عمل درآمد اور جرائم کو پہلے ہی روکنے کے نظام پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔پولیس کے مطابق آیت نور کی گمشدگی کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج تکنیکی شواہد اور سرچ آپریشن کے ذریعے تفتیش آگے بڑھائی گئی 26 اگست کی پولیس بریفنگ کے مطابق چار افراد گرفتار کیے گئے ڈی این اے کپڑے اور دیگر شواہد فرانزک لیبارٹری بھیجے گئے پولیس کے مطابق میڈیکل بورڈ نے بچی سے زیادتی کی تصدیق کی ہے مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔لیکن اصل سوال تفتیش سے آگے کا ہےاگر ایک پانچ سالہ بچی گھر سے نکلنے کے بعد محفوظ واپس نہیں آتی تو اس سے پہلے حفاظتی نظام کہاں تھا؟پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد اغوا اور جنسی زیادتی کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں بچوں کے حقوق پرکام کرنے والی تنظیم ساحل کے مطابق 2025 میں پاکستانی اخبارات میں بچوں سے زیادتی کے 3630 واقعات رپورٹ ہوئے یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں آٹھ فیصد زیادہ تھی2026 کے پہلے چھ ماہ میں ساحل نے 1914 واقعات رپورٹ کیے ان میں جنسی زیادتی اغوااور لاپتہ بچوں کے کیسز شامل تھے یہ اعداد مکمل تصویر نہیں ہیں۔ ساحل کی گنتی اخبارات میں رپورٹ ہونے والے واقعات پر مبنی ہے بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس بارے میں سوشل ورکر روبینہ شاہ کہتی ہیں کہ بچوں کو صرف اجنبیوں سے محتاط رہنے کا کہنا کافی نہیں، بلکہ انہیں یہ بھی سکھانے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی جاننے والا شخص انہیں غیر محفوظ محسوس کرائے تو وہ کس سے مدد لے سکتے ہیں۔ان کے مطابق بچوں کو کم عمری ہی سے اپنی ذاتی حدود اور اچھے اور برے رویے کے بارے میں عمر کے مطابق سمجھانا چاہیے تاکہ وہ کسی مشکل صورت حال میں خاموش رہنے کے بجائے کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ بچوں کا تحفظ صرف جرم کے بعد ملزم کی گرفتاری اور سزا تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بچوں کو جرم سے پہلے محفوظ رکھنے کے لیے بھی اقدامات ضروری ہیں بڑے بچوں کو آن لائن خطرات اور بلیک میلنگ سے آگاہ کرنا بھی اسی کا حصہ ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کو خطرے سے بچانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ خطرے کو کیسے پہچانیں اور ضرورت پڑنے پر مدد کہاں سے لیں۔


انگلینڈ، نیدرلینڈز، آسٹریلیا اور کئی دوسرے ممالک میں اسکولوں کے ذریعے بچوں کو عمر کے مطابق ذاتی حدود، محفوظ اور غیر محفوظ رویوں، خطرے کو پہچاننے اور مشکل میں مدد لینے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ بچوں کو صرف اجنبیوں سے محتاط رہنے کے بجائے یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ خطرے کو کیسے پہچانیں اور مشکل میں کس سے مدد لیں۔ اس کا مقصد بچوں کو ڈرانا نہیں بلکہ انہیں یہ سکھانا ہے کہ خطرے کی صورت میں کیا کرنا ہے اور کس بھروسے والے بڑے سے مدد لینی ہے۔ان مثالوں سے ایک بات واضح ہوتی ہےکہ خطرہ صرف اجنبی سے نہیں ہوتا بلکہ جاننے والا شخص سےبھی خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے بچے کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ وہ مدد مانگ سکتے ہیں اور ان کی بات بھی سنی چاہیے۔پاکستان میں بھی بچوں کو ان کی عمر کے مطابق محفوظ رہنے، خطرے کو پہچاننے اور ضرورت پڑنے پر مدد لینے کے بارے میں سکھایا جا سکتا ہے۔ یہ تعلیم ہماری ثقافت، مذہبی اقدار اور معاشرتی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے دی جانی چاہیے۔ اس میں والدین کا ردعمل بھی اہم ہے اگر بچہ کسی ناخوشگوار واقعے کے بارے میں بتائے تو سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ تم وہاں کیوں گئے تھے؟ بلکہ اسے یہ یقین دلانا چاہیے کہ اچھا کیا تم نے مجھے بتا دیا بچے کو الزام دینے یا شرمندہ کرنے سے وہ آئندہ خاموش بھی ہو سکتا ہے۔پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں پاکستان پینل کوڈ میں اغوا اور جنسی جرائم سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 لاپتہ اور اغوا شدہ بچوں کے لیے الرٹ اور رسپانس کا نظام فراہم کرتا ہے۔خیبر پختونخوا میں بچوں کی حفاظت کے لیے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 موجود ہے جس کا مقصد خطرے میں موجود بچوں کو تحفظ اور ضروری مدد فراہم کرنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس قانون کے اثرات بچوں اور والدین کی روزمرہ زندگی میں بھی نظر آتے ہیں؟ایک بچے کی حفاظت صرف قانون بنانے سے نہیں ہوتی۔ اسے گھر اسکول مدرسے سفر اور آن لائن دنیا میں بھی محفوظ ماحول چاہیےیہی وہ پہلو ہے جہاں دوسرے مسلم ممالک کے تجربات پاکستان کے لیے قابلِ غور ہو سکتے ہیں۔

ملائیشیا میں یونیسف نے بچوں کے خلاف تشدد کی روک تھام والدین کی مدد مؤثر رپورٹنگ اور محفوظ اسکولوں کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے یعنی صرف واقعہ ہونے کے بعد کارروائی کافی نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ کے لیے پہلے سے احتیاط اور روک تھام کو بھی نظام کا حصہ بنانا ضروری ہے۔انڈونیشیا میں بچوں کے تحفظ کے لیے اسکولوں اور دینی مدارس کو بھی نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے یونیسف کے تعاون سے بعض اسلامی بورڈنگ اسکولوں میں بچوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کا پروگرام چلایا گیاجس میں اساتذہ کو بچوں کے خلاف تشدد جنسی استحصال ذہنی صحت اور شکایات سے نمٹنے کی تربیت دی گئی۔ اردن نے بھی بچوں کے تحفظ کے لیے قانون اسکول اور سماجی خدمات کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کی ہے وہاں اسکولوں کو تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ اور جواب دینے کے لیے معاونت دی جا رہی ہے بچوں اور خاندانوں کے لیے مدد کے مراکز بھی کام کر رہے ہیں۔

2026 میں اردن نے بچوں کے تحفظ اور خاندانی تشدد سے متعلق 2026-2030 کے قومی ایکشن پلان پر بھی کام آگے بڑھایا۔ترکیہ میں بچوں کے تحفظ کے لیے قومی اور مقامی سطح کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے وہاں بچوں اور خاندانوں کے لیے نفسیاتی تعلیمی اور خاندانی مدد کے اقدامات شامل ہیں مارچ 2026 میں ترکیہ میں بچوں کے لیے حفاظتی اور بچوں کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے مشاورتی اقدامات کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا ان مثالوں کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان دوسرے ممالک کے تجربات کو مکمل طور پر اپنائے، بلکہ اپنی ثقافت اور حالات کے مطابق ان سے سیکھے۔بچوں کی حفاظت صرف پولیس یا عدالت کی ذمہ داری نہیں۔ اس کے لیے خاندان، اسکول، مدرسہ، سماجی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہر اسکول اور مدرسے میں بچوں کے تحفظ کے لیے ایک ذمہ دار شخص بھی مقرر کیا جا سکتا ہے۔ بچوں اور والدین کے لیے ایسا شکایتی نظام ہونا چاہیے جہاں وہ اپنی شکایت محفوظ طریقے سے اور رازداری کے ساتھ درج کر سکیں۔

اساتذہ کو بچوں کی حفاظت کے بارے میں تربیت دی جائے۔ بچوں کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کی اچھی طرح جانچ کی جائےاگر کوئی بچہ شکایت کرے تو اسے فوراً مدد دی جائے اوراگر کوئی بچہ لاپتہ ہو جائے تو وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے اور فوراً پولیس میں رپورٹ کرنی چاہیے والدین کو بچے کی تازہ تصویر، لباس اور آخری معلوم جگہ کے بارے میں تمام معلومات پولیس کو دینی چاہییں۔ پولیس کو بھی لاپتہ بچے کو فوراً تلاش کرنا چاہیے۔ اس کے لیے سی سی ٹی وی اور دوسری دستیاب معلومات سے مدد لینی چاہیے، کیونکہ آیت نور کے کیس میں بھی پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی، ڈیجیٹل شواہد سے تفتیش میں مدد ملی۔

پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ قصور کے حسین خان والا، زینب انصاری اور ملک کے مختلف علاقوں میں بچوں سے زیادتی اور تشدد کے واقعات نے بار بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ بچوں کے تحفظ کا موجودہ نظام کہاں کمزور ہےہر سانحے کے بعد ہم ملزمان کی گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ درست ہے صرف سزا سے بچوں کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا اصل ضرورت ایسے نظام کی ہے جو کسی بچے کے خطرے میں پڑنے سے پہلے اس کی حفاظت کرے۔اس کے لیے والدین کی آگاہی اسکولوں اور مدارس میں مؤثر شکایتی نظام تربیت یافتہ ملازمین کی مناسب جانچ پڑتال اور شکایت پر فوری کارروائی ضروری ہے۔بچوں کا تحفظ صرف سانحے کے بعد انصاف فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ سانحہ ہونے سے پہلے خطرے کو روکنے کا بھی نام ہےبچوں کے تحفظ کے ایک مؤثر نظام کے پانچ بنیادی ستون ہیں۔روک تھام، آگاہی، بروقت رپورٹنگ، مؤثر تفتیش اور انصاف۔پاکستان کے پاس قوانین ہیں۔ ادارے موجود ہیں۔ سول سوسائٹی اور ماہرین بھی موجود ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کا تحفظ فائلوں سے نکل کر ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنے۔ہر بچے کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی ذاتی حدود اہم ہیں۔ خطرے کی صورت میں وہ خاموش رہنے کے بجائے مدد مانگ سکتا ہےاور ہر بالغ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں یہ گھراسکول مدرسے، پولیس بچوں کے تحفظ کے ادارے ریاست اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔آیت نور کی موت کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہےکہ بچوں کو صرف تعلیم نہیں بلکہ تحفظ بھی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں

قبائلی اضلاع / خیبر پختونخوا

پانی کی تلاش نے ہم سے ہمارا بچپن اورپڑھائی کا وقت چھین لیا ہے

اگست 20, 2026
قبائلی اضلاع / خیبر پختونخوا

جنوبی وزیرستان ،ڈیرہ اسماعیل خان جانے والے ٹریکٹر ٹرالی کو حادثہ ،خاتون اور بچی جاں بحق،5 زخمی

اکتوبر 6, 2025
پاکستان

بنوں میں جھڑپ میں 2 دہشتگرد ہلاک، لکی مروت میں حملے میں 2 پولیس اہلکار شہید

جولائی 1, 2025
کھیل و ثقافت

لارڈز ٹیسٹ کا تیسرا دن بارش سے متاثر، انگلش ٹیم کو 308 رنز کی برتری حاصل

اگست 30, 2026
وزیرستان ٹائمزوزیرستان ٹائمز
Follow US
2026 | WAZIRISTAN TIMES | RIGHTS RESERVED
POWERED BY: THE DOTANI DIGITAL
Welcome Back!

Sign in to your account

یوزر نیم / ای میل
پاسورڈ

Lost your password?