پانی کی تلاش نے ہم سے ہمارا بچپن اورپڑھائی کا وقت چھین لیا ہے

فاروق

گیارہ سالہ زہرہ سورج نکلنے سے پہلے جب چھینہ گاؤں ابھی تاریکی میں ڈوبا ہوتا ہے ،اسکول کا بستہ اٹھانے کے بجائے پلاسٹک کے خالی کین ہاتھوں میں تھامے اپنی دوسری سہلیوں کے ساتھ گاؤں کے قریب تالاب کی طرف نکلتی ہیں۔ زہرہ بتاتی ہے کہ صبح سویرے اٹھتے ہی سب سے پہلا کام پانی لانا ہوتا ہے جس پر دو گھنٹے سے زیادہ ٹائم لگ جاتا ہے اور جب کبھی پانی کم ہو تو اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور عصر کے وقت بھی پانی بھرتے ہیں۔
یہ کہانی ہے خیبر پختون خوا کے ضلع ٹانک کے گاؤں چھینہ کی رہائشی زہرہ کی جو گاؤں میں صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے صبح سویرے تالاب سے پانی لانے نکلتی ہے۔یہ کہانی صرف زہرہ ہی کی نہیں بلکہ چھینہ گاؤں سمیت نو ایسے دیہات جوکہ ایک ہزار سے زائد گھرانوں اور تقریبا چالیس ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل ہیں کے بچوں ،بچیوں اور خواتین کی بھی ہے جو برسوں سے صاف پانی کی قلت کا سامنہ کررہے ہیں۔ یہاں زیرزمین پانی کی سطح 1400-1500فٹ نیچے جاچکی ہے اور جو پانی نکلتا ہے وہ اس قدر کھارا ہے کہ پینے اور استعمال کے قابل نہیں۔سینکڑوں افراد بالخصوص خواتین اور بچے روزانہ گھنٹوں برساتی تالابوں جہاں انسان اور جانور ایک ساتھ اپنی پیاس بجھاتے ہیں کا رخ کرتے ہیں۔ زہرہ بھی ان میں شامل ہے اور وہ اس مشقت برے کام کی وجہ سے سکول بھی نہیں جاسکتی۔ زہرہ کہتی ہیں پانی کی تلاش نے ہم سے ہمارا بچپن اورپڑھائی کا وقت چھین لیا

چھینہ گاؤں کے رہائشی بزرگ امام بخش کے مطابق انسان اور جانور ایک ہی تالاب کا پانی پینے پر مجبور ہیں،جسکے باعث گاوں میں بیماریاں عام ہیں، خواتین اور بچوں کو شدید گرمی میں تالابوں سے پانی بھرنے کی ذلت کا سامنا ہے۔ امام بخش مذید کہتے ہیں کہ پانی ہمارے لیئے اب خون سے زیادہ قیمتی ہوچکا ہے ۔
یہ بحران محض دیہاتوں تک محدود نہیں بلکہ ٹانک شہر میں بھی گرمیوں میں پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے، ٹانک شہر کے رہائشی حشمت بتاتے ہیں کہ شہر میں بھی کئی کئی دن پینے کے صاف پانی کا شدید بحران رہتا ہے۔ حشمت مذید بتاتے ہیں کہ شہر کو پانی زام ہیڈ سے ندی نالوں کے ذریعے عمر اڈہ میں قائم تالابوں تک پہنچتا ہے اور پھر تالابوں سے پائپ لائن کے ذریعے سپلائی ہوتا ہے ۔
پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم کا ذمہ دار ہے مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات جھیلنے والے ممالک کی صف اول میں شمار ہوتا ہے اور ضلع ٹانک اسی موسمیاتی ناانصافی کی ایک واضح مثال ہے
گرہ بلوچ کے رہائشی اور مقامی صحافی عطاء اللہ بلوچ بتاتے ہیں کہ چھینہ ، پیروانہ ، ادول ، کوٹ اللہ داد، ٹیڑی ،نورنگ ،صفدر علی شاہ، کاو،کالی عظمی دیہاتوں میں زیرزمین پانی کی سطح چودہ سو سے پندرہ سو فٹ تک نیچے جا چکی ہے اور بجلی کی عدم فراہمی کے باعث ٹیوب ویل یا موٹریں چلانا بھی ممکن نہیں ہے۔
عطاء مذید بتاتے ہیں گومل زام ڈیم سے نکلنے والی واران کینال جس مقام سے گزر رہی ہے اسکے قریبی علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح قدرے بہتر ہے لیکن باقی تمام دیہات مکمل طور پر برساتی پانی اور جوہڑوں پر انحصار کرتے ہیں
ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم (DHIS)خیبرپختون خوا کے سال 2025-26 کے مطابق ٹانک کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال، بنیادی مراکز صحت میں آلودہ پانی سے بننے والے امراض کے سالانہ 45,000 سے 60,000تک مریض رپورٹ ہوئے ہیں ان مریضوں میں ساٹھ فیصد سے زائد بچوں اور خواتین کی ہے جو شدید ڈائیریا اورر ڈٰی ہائیڈریشن کا شکار ہوکرلائے گئے اسکے علاہ ٹائیفائید اور ہیپٹائٹس اے اور ای کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔

عطاء اللہ کے مطابق شدید غربت کے باعث علاقے کے مرد دن بھر محنت مزدوری کرتے ہیں جبکہ گھر داری کے ساتھ ساتھ پانی کا بندوبست بھی خواتین اور بچوں کے کندھوں پر آ جاتا ہے اور روزانہ میلوں کا فاصلہ طے کر کے تالابوں تک جانا اور گھنٹوں باری کا انتظار کرنا اب معمول بن چکا ہے اورپانی کے بحران کی سب سے بڑی قیمت گاؤں کے بچے اور بچیاں ادا کر رہے ہیں جن ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہئیں ان میں دس سے بیس لیٹر کے پلاسٹک کین تھما دیے گئے ہیں جس کے بعد بچے اسکول جانے کے قابل ہی نہیں رہتے اس کا سب سے گہرا اثر لڑکیوں کی تعلیم پر پڑا ہے۔
گاوں اودل کی رہائشی 47 سالہ خاتون (نام نہ بتانے کی شرط پربات کی) اور کہا کہ بچیوں اور بچوں کا سکول جانے کا وقت ہوتا ہے لیکن انکے ہاتھوں میں پانی کے کین تھما دیتے ہیں اور بچیوں پر بھاری بھر کم پانی لانے اور مشقت کے کام کی وجہ سے اکثر کم عمر لڑکیوں میں ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کے درد عام ہوچکے ہیں ، مذید بتاتی ہیں کہ میری اپنی بیٹی جوکہ اب بائیس سال کی ہے اسے کمر درد کی شکایت ہے اور مسلسل تھکن اور صبح شام پانی ہی کی تلاش نے ہماری خواتین کو ذہنی تناؤ کا شکار بنا دیا ہے۔ خاتون مذید کہتی ہیں کہ ایک صاف پانی کا ٹینکر دس سے بارہ ہزار کا آتا ہے تو ہم کیسے خرید سکتے ہیں اور بوجہ مجبوری مرد محنت مزدوری کرتے ہیں اور خواتین پانی کا بندوبست کرتی ہیں۔

ممبر صوبائی اسمبلی و مشیر وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعثمان خان بیٹنی نے ٹانک میں پانی کے درپیش مسائل پر سوال کے جواب میں کہا کہ چھینہ، کوٹ اللہ داد،صفدر علی شاہ اور اودل سمیت پورے سرائیکی بیلٹ میں پانی کے دیرینہ مسئلہ ہے اور اس سلسلے میں چھینہ میں ٹیوب ویل لگانے اور پائپ لائنیں بچھانے کا کام جاری ہے، اور منجی خیل کے تالابوں سے مختلف دیہاتوں کو پانی فراہم کرنے پر بھی کام شروع کررہے ہیں اور پانی کا یہ مسئلہ میری پہلی ترجیح ہے

خیبرپختون خواہ کا جنوبی ضلع ٹانک جہاں صحت کی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہاں کے باسی آج بھی بوند بوند صاف پانی کو ترس رہے ہیں ۔زہرہ جیسی سینکڑوں لڑکیوں کے لیے صبح کا آغاز اب بھی اسکول کے بستے سے نہیں بلکہ خالی کین ہاتھوں میں تھامنے سے ہوتا ہے


کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے