مغوی پولیس اہلکار سمیع اللہ خان کے حوالے سے ضلع لکی مروت میںپولیس امن کمیٹی اور انتظامیہ کے مابین مذاکرات کامیاب ہو گئے، اس موقع پر امن کمیٹی، آر پی او بنوں، ایم این اے شیر افضل ، انتظامیہ اور علاقہ مشران موجود تھے۔
مذاکرات کے بعد تحریری معاہدہ بھی طے پا گیا، جس میں اراکین امن کمیٹی کے کردار اور پولیس اہلکاروں کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
مغوی پولیس اہلکار کی بازیابی کا فیصلہ
مذاکرات میں فیصلہ کیا گیا کہ مغوی پولیس امن کمیٹی کے ارکان کو آج بازیاب کرا کے پولیس امن کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا۔
سمیع اللہ خان کے معاملے پر فریقین کے درمیان مذاکرات کے بعد صورتحال میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
57 پولیس اہلکاروں کے تبادلے منسوخ
مذاکرات میں گزشتہ روز کیے گئے 57 پولیس اہلکاروں کے تبادلوں کے احکامات منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
پولیس امن کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت کمیٹی کے ارکان آئندہ آپریشنز میں باقاعدہ پولیس وردی پہن کر حصہ لیں گے۔
آپریشنز کیلئے ڈی پی او کی اجازت لازمی قرار
معاہدے کے مطابق پولیس امن کمیٹی تبادلوں کے معاملے پر احتجاج نہیں کرے گی، جبکہ تمام آپریشنز ڈی پی او کی پیشگی اجازت سے کیے جائیں گے۔
اس اقدام کا مقصد پولیس امن کمیٹی کے ارکان اور ضلعی پولیس کے درمیان رابطہ اور تعاون کو مزید مؤثر بنانا قرار دیا گیا ہے۔
آر پی او کا اہم پیغام
آر پی او بنوں غفور آفریدی نے امن کمیٹی کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہادر اور قابلِ فخر نوجوان ہیں اور ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے، اور یہ نوجوان پولیس کیلئے قیمتی سرمایہ ہیں، انہیں نظر انداز کرنا افسران کی کوتاہی رہی۔
دہشت گردی کے خلاف قربانیاں قابلِ تحسین ہیں
غفور آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس امن کمیٹی کے جوانوں کی قربانیاں اور جدوجہد قابلِ تحسین ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میدان میں لڑنے والوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور پولیس امن کمیٹی کے اہل جوانوں کی ترقی کیلئے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
آر پی او بنوں نے مزید کہا کہ جس قوم میں ایسے بہادر نوجوان موجود ہوں، وہاں امن کا قیام ناممکن نہیں ہوتا۔

