جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا کی سائیکاٹری او پی ڈی میں صرف گزشتہ ایک ماہ (جولائی) کے دوران 714 سے زائد ذہنی امراض کے مریض لائے گئے، جن میں 340 خواتین اور 374 مرد شامل ہیں۔ ہسپتال کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جہاں 15 سے 49 سال کی عمر کی 260 خواتین اور 256 مرد اس شدید ذہنی تناؤ کا شکار بنے، وہی 5 سے 14 سال کی عمر کے 25 معصوم بچیاں اور 22 بچے بھی ان امراض کی لپیٹ میں آئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس گہرے اور خاموش نفسیاتی بحران کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہیں جو اس وقت جنوبی وزیرستان کے ہر دوسرے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ پسماندگی، آگاہی کے فقدان اور معاشرتی پابندیوں کی وجہ سے ہزاروں دیگر خواتین اور بچے تو کبھی ہسپتال کے ریکارڈ کا حصہ بن ہی نہیں پاتے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس بحران کے پس پشت متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ برسوں سے جاری تصادم اور نقل مکانی کا نفسیاتی بوجھ، کم سنی کی شادیاں، معاشی عدم تحفظ اور محدود آزادی نقل و حرکت۔ اس کے علاوہ جغرافیائی لحاظ سے جنوبی وزیرستان کی دو اضلاع (اپر اور لوئر) میں تقسیم کے بعد بھی بنیادی طبی ڈھانچہ شدید بحران کا شکار ہے۔

2023 کی مردم شماری کے مطابق جنوبی وزیرستان اپر کی کل آبادی 4 لاکھ 88 ہزار سے زائد ہے۔ اس حوالے سے ضلعی محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ خان بتاتے ہیں ”ضلع میں صرف سول ہسپتال ہے اوور ہیڈ کوارٹر ہسپتال موجود نہیں اور نہ ہی کوئی سائیکاٹرسٹ یا سائیکالوجسٹ موجود ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنے مریضوں کو ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک یا پشاور لے جانے پر مجبور ہیں۔”
پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ایڈوکیٹ سجاد محسود کی پٹیشن کے مطابق اپر جنوبی وزیرستان کے باسیوں کو کسی بھی معمولی طبی ایمرجنسی یا ذہنی و جسمانی صدمے کی صورت میں 5 سے 7 گھنٹے کا سفر طے کر کے ڈیرہ اسماعیل خان یا 14 سے 15 گھنٹے کا طویل سفر کر کے پشاور جانا پڑتا ہے۔
دوسری جانب جنوبی وزیرستان لوئر، جس کی کل آبادی 3 لاکھ 78 ہزار سے زائد ہے، وہاں کے لیے صرف وانا میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ایک سائیکاٹرسٹ اور ایک خاتون سائیکالوجسٹ میسر ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا کی سائیکاٹری او پی ڈی کے ایک ماہ کے ڈیٹا کے مطابق 714 مریضوں کو لایا گیا جسکے مطابق 5 سے 14 سال:22 لڑکے اور 25 لڑکیاں، 15 سے 49 سال کے 256 مرد اور 260 خواتین جبکہ 50 سے 59 سال کے 75 مرد اور 45 خواتین اور60 سال سے زائدکے20 مرد اور 9 خواتین شامل ہیں۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا ڈاکٹر محمد جان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں اس مرض کے حوالے سے آگاہی آ جائے تو مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جبکہ مستقل علاج نہ کروانا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر منیر داوڑ جو ڈیرہ اسماعیل خان میں 25 سالوں سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ میرے پاس روزانہ کی بنیاد پر آنے والے مریضوں میں 70 فیصد کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے جن میں 40 فیصد خواتین شامل ہیں۔ خواتین میں اینگزائٹی ڈس آرڈر کی وجہ سے شدید گھبراہٹ کے دورے پڑتے ہیں۔ بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی بنیادی وجہ آگاہی کا نہ ہونا ہے۔ جب شدید گھبراہٹ اور دورے پڑنے کی اسٹیج تک مریضہ پہنچتی ہے تو گھر والے ڈاکٹر کا روخ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دورے پڑنے کی صورت میں دم درود کو ترجیح دی جاتی ہے نہ کہ ڈاکٹر، جس کی وجہ سے بھی خواتین میں ذہنی امراض کا تناسب بڑھ رہا ہے۔
داوڑ مزید کہتے ہیں کہ اکثر مریضوں کی تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کی دوائیاں استعمال کی جارہی ہوتی ہیں۔ گھر میں اگر ایک شخص بھی ذہنی مرض کا شکار ہو تو اس کا غصہ اور لڑائی جھگڑوں سے پورا گھر اس مرض کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔
”ان بچوں کو اس طرح کیوں مارتی ہو؟ یہ تو ابھی بہت چھوٹے اور ناسمجھ ہیں۔جواب ملا: ”انہوں نے میرے سر میں درد کر دیا ہے، جب یہ روتے یا شور مچاتے ہیں تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی میرے سر میں سوئیاں چبھو رہا ہو۔”یہ گفتگو سماجی کارکن حجاب اور وزیرستان کی تحصیل شکئی کی ایک گاوں کی 24 سالہ خاتون (ش ص) کے درمیان ہوئی۔ حجاب بتاتی ہیں کہ وہ ایک غیر سرکاری تنظیم کے پروگرام کے سلسلے میں اس خاتون کے گھر گئی تھی ان کے مطابق، خاتون کی کم عمری میں شادی، خاندانی مسائل اور گھر کی بھاری ذمہ داریوں نے انہیں اس قدر شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا تھا کہ وہ اپنا تمام غصہ بچوں پر تشدد کر کے نکالتی تھیں۔ ان کے بچے، جن کی عمریں 3 سے 9 سال کے درمیان تھیں، ہر وقت خوف کے سائے میں سہمے رہتے تھے۔
حجاب مزید بتاتی ہیں کہ یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں ہے، بلکہ علاقے کے تقریباً ہر دوسرے گھر کی خواتین کسی نہ کسی نوعیت کے ذہنی تناؤ یا بیماری کا شکار ہیں۔ تاہم، وہ خود یا ان کے خاندانی افراد اس صورت حال سے مکمل طور پر ناواقف ہیں، جس کی بنیادی وجہ ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی کا نہ ہونا ہے
گائناکالوجسٹ رومانہ برکی جوکہ دو دہائیوں سے وانا بازار میں پریکٹس کرتی ہیں، کہتی ہیں ِ ”میرے پاس اکثر وہ خواتین مریض بھی آتی ہیں جو معدے میں درد، سر میں درد، چکر آنا اور دورے پڑنے جیسے امراض کا شکار ہوتی ہیں۔ جب میں ان سے معلومات لیتی ہوں تو ان میں زبردستی کی شادی، بچپن کی شادیاں، کزن کے ساتھ شادی اور بدامنی جیسے عوامل سامنے آتے ہیں۔ اور پھر انکو ماہر امراض نفسیات کے پاس ریفر کردیتی ہوں جبکہ انکا یہی جواب ہوتا ہے کہ یہ تو پاگلوں کے لیئے ہیں ہم پاگل تو نہیں ، یہاں خواتین کے لیے سہولیات نہ ہونے کے ساتھ ساتھ آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بھی ذہنی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے”ّ۔

خیر اللہ محسود، جو اپنی مدد آپ کے تحت جنوبی وزیرستان سمیت ٹانک سے ذہنی امراض میں مبتلا افراد (جو بعد میں نشے کے عادی ہو جاتے ہیں) کے علاج معالجے کے لیے سرگرم ہیں، کہتے ہیں کہ جنوبی وزیرستان(اپر اینڈلوئر) سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد افراد جن میں 50 سے زائد ذہنی امراض کے مریض اور 250 سے زائد وہ افراد جو ذہنی پریشانی سے جان چھڑانے کے لیے نشے کے عادی بن گئے، کا علاج کیا ہے جبکہ اب بھی روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو علاج کے لیے مختلف مراکزلیکر جاتا ہوں لیکن ان میں ایک بھی خاتون شامل نہیں۔ خیراللہ مذید کہتے ہیں کہ ایسا نہیں کہ خواتین ذہنی امراض کا شکار نہیں ہوں گی، لیکن ان تک خواتین کے علاج کا کسی سے مدد کی کال نہیں ائی لیکن اور جب بھی میں نشے میں مبتلا ان افراد کے خاندان میں مائیں اور بہنیں اور بیٹیاں کو دیکھتا ہو تووہ شدید ذہنی ازیت کا شکار ہورہی۔خیراللہ مذید بتاتے ہیں کہ بدامنی اور بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں میں ذہنی امراض بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور پھر باآسانی منشیات ملنے کی وجہ سے وہ اس حالات پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان کو گھروں میں خاندان کے افراد زنجیروں میں باندھ دیتے ہیں اور ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جبکہ ان کے علاج معالجہ کے لیے پورے جنوبی وزیرستان میں نہ ڈاکٹر اور نہ ہسپتال موجود ہے۔
پاکستان میں خواتین کی ذہنی صحت کے حوالے سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور پاکستان طبی تحقیقاتی کونسل (PMRC) کی جانب سے جاری کردہ قومی رپورٹس کے مطابق، ملک بھر میں ہر 4 میں سے 1 خاتون (تقریباً 25 فیصد) کسی نہ کسی ذہنی بیماری یا شدید تناؤ کا شکار ہے۔ تاہم، بین الاقوامی تحقیقی ادارے ریسرچ اسکوائر کی جانب سے 21 مئی 2026 کو شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ (Mental Health Assessment in Conflict-Affected Areas of KP) کے مطابق، خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع خصوصا وزیرستان میں مسلسل بدامنی، سیکیورٹی خدشات اور ملٹری آپریشنز کے بوجھ کے باعث خواتین اور نوجوانوں میں اینگزائٹی اور ڈپریشن کی شرح ملکی اوسط سے کہیں زیادہ تشویشناک حد تک بلند ہے۔
جنوبی وزیرستان کی اگر بات کی جائے تو نفسیاتی امراض کی شرح روز افزوں ہے لیکن معاشرتی اور سرکاری سطح پر ابھی تک اس معاملے کو وہ سنجیدگی حاصل نہیں ہوسکی، محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے 28 اپریل 2026 کو جاری کردہ رسمی اعلامیے کے مطابق کے پی حکومت نے صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں میں کوالیفائیڈ سائیکالوجسٹس کی تعیناتی کو لازمی اور یقینی قرار دیا لیکن جنوبی وزیرستان اپر جسکی تقریبا پانچ لاکھ آبادی ہے کے لیئے نہ ابتک کوئی سائیکاٹری ڈاکٹر کا تعین ہوا نہ سائیکالوجسٹ۔اس کے علاو صوبائی حکومت کی خیبرپختونخوا ہیلتھ پالیسی جوکہ خیبرپختونخوا کابینہ کے اجلاس میں 9 جولائی 2026 کو باقاعدہ منظوری دی گئی کے تحت جنوبی وزیرستان جیسے دور دراز اور پسماندہ قبائلی اضلاع کے لیے ‘ٹیلی میڈیسن نیٹ ورک’ (Telemedicine) اور اسکولوں کی سطح پر بچوں کی مینٹل ہیلتھ اسکریننگ کا فریم ورک شامل کیا گیا ہے، تاکہ مریض پشاور یا ڈیرہ اسماعیل خان کا طویل سفر کیے بغیر آن لائن ماہرین نفسیات سے مشورہ کر سکیں۔
ان تمام سرکاری اعلانات اور ہیلتھ پالیسی 2026 کی دستاویزات کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان کے دور دراز دیہاتوں تک یہ سہولیات اب بھی محض کاغذوں تک محدود ہیں۔ انٹرنیٹ اور بجلی کی عدم دستیابی نے ٹیلی میڈیسن کی عملی افادیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جبکہ ماہرین نفسیات اور خاتون کونسلرز کی عدم موجودگی کی وجہ سے عام قبائلی عورت تک اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ پائے گا۔
جب تک قبائلی اضلاع میں خصوصا خواتین کے لیے مقامی ہسپتالوں کی سطح پر مفت، باقاعدہ اور بااعتماد کونسلنگ کا عملی نظام قائم نہیں کیا جاتا، تب تک ”KP Health Policy 2026” کا یہ سفر جنوبی وزیرستان کی خاموش اذیت سہتی بیٹیوں کے لیے نامکمل ہی رہے گا۔


