گیارہ سال، تین حکومتیں اور اربوں کے بجٹ، مگر عوام کے حصے میں صرف مٹی اور دھول ۔جنوبی وزیرستان کا ‘سفید ہاتھی’ڈانڈ ڈیم کی لاگت میں 300 فیصد اضافہ، کسانوں کی تقدیر بدلی نہ زمینیں، بس فائلیں بھرتی رہیں
جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں سمال ڈیمز منصوبے کے تحت زیرِ تعمیر ’ڈانڈ ڈیم‘ حکومتی عدم توجہی اور انتظامی سستی کی جیتی جاگتی مثال بن چکا ہے۔ جو منصوبہ محض دو سال میں مکمل ہونا تھا، اسے گیارہ برس بیت چکے ہیں مگر تکمیل کے آثار اب بھی دور دور تک نظر نہیں آتے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمال ڈیمز،محمد عامر سے وزیرستان ٹائمز نے ڈیم بارے معلومات لی،ان معلومات کے مطابق اس ڈیم کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 590 ملین روپے لگایا گیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مالی بوجھ بڑھتا ہی چلا گیا۔ سال 2018 میں اس کا بجٹ بڑھا کر 876 ملین روپے کیا گیا اور اب 2024 میں یہ نظرِ ثانی شدہ تخمینہ 1689 ملین روپے (تقریباً پونے دو ارب) تک جا پہنچا ہے۔ محمد عامرنے ڈیم پر کام مکمل نہ ہونے کی مختلف وجوہات بتائی جس میں علاقائی قومی تنازعات سمیت دوسرے مسائل شامل ہیں،
محمد عامر نے وزیرستان ٹائمز کو مذید بتایا کہ ڈیم پر جلد کام مکمل کرلیا جائے گا۔
حیران کن امر یہ ہے کہ سرکاری دستاویزات کے مطابق اب تک 655 ملین روپے سے زائد کی رقم خرچ ہونے کے باوجود زمینی حقائق یہ ہیں کہ صرف 40 فیصد کام ہی مکمل ہو سکا ہے۔
واضح رہے کہ اس منصوبے کا مقصد 1400 ایکڑ زرعی زمین کو سیراب کرنا اور 3200 سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنا تھا۔
شکئی کے مقامی نوجوان محمد بلال، جو اس منصوبے میں تاخیر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمیں امید تھی کہ ڈیم بننے سے ہماری 1400 ایکڑ بنجر زمین سونا اگلنے لگے گی، لیکن 11 سال سے ہم صرف کھوکھلے وعدے سن رہے ہیں۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے ہماری زمینیں ویران پڑی ہیں اور یہاں کا نوجوان روزگار کی تلاش میں شہروں کی خاک چھان رہا ہے۔ اگر یہ ڈیم وقت پر بن جاتا تو آج ہم اناج کے لیے دوسروں کے محتاج نہ ہوتے۔
بلال نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کی عدم تکمیل کی وجہ سے مقامی آبادی آج بھی پینے کے صاف پانی کے لیے میلوں دور جانے یا آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہے، جس سے علاقے میں صحت کے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔

سابق مشیر اطلاعات و ضم شدہ اضلاع اجمل خان وزیر، جن کا تعلق اسی علاقے سے ہے، کہتے ہیں کہ ڈانڈ سمال ڈیم سے 60 ہزار سے زائد نفوس کا مستقبل جڑا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیم کی تکمیل نہ ہونے سے ایک طرف قومی خزانے کو ہر گزرتے سال نقصان پہنچ رہا ہے تو دوسری طرف اسے ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے، جس کی لاگت کروڑوں سے اب اربوں تک پہنچ گئی ہے، مگر کام وہیں کا وہیں رکا ہوا ہے۔
اجمل خان وزیر نے مزید کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ کا تعلق خود قبائلی اضلاع سے ہے اور وہ یہاں کی محرومیوں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ لہٰذا انہیں چاہیے کہ سب سے پہلے اس منصوبے کی انکوائری کرائیں کہ اس کی تعمیر میں اتنی طویل تاخیر کیوں ہوئی، اور فوری طور پر کام مکمل کروا کر علاقے کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مقامی لوگوں اور کسانوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی لاگت میں مزید اضافے اور عوامی محرومی کو روکنے کے لیے تعمیراتی کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 11 سال گزرنے کے بعد بھی یہ منصوبہ مکمل نہ ہوا تو یہ نہ صرف علاقے کی ترقی کے ساتھ مذاق ہوگا بلکہ قومی خزانے پر ایک دائمی بوجھ بن جائے گا۔


