ضلع خیبر کے دور افتادہ علاقے لوئے شلمان کے گاؤں شین پوخ میں ایک سرکاری سکول کی عمارت گزشتہ اٹھارہ برسوں سے سینکڑوں بچیوں کے تعلیمی خوابوں کی تکمیل کی منتظر ہے۔ یہاں بچیوں کے لیے سکول تو موجود ہے، لیکن مستقل تدریسی عملہ نہ ہونے کے باعث اس کے دروازے بیشتر وقت بند رہے ہیں۔ اس دوران کئی بچیاں سکول جانے کی عمر گزار چکی ہیں، جبکہ نئی نسل بھی انہی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
تحصیل لنڈیکوتل کے علاقے شین پوخ میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول ملک امروز کلے 2008 سے مستقل بنیادوں پر فعال نہیں ہوسکا۔ تقریباً چھ سے سات ہزار نفوس پر مشتمل اس علاقے میں بچیوں کی تعلیم کے لیے قائم یہ واحد سرکاری پرائمری سکول ہے، جس کی طویل بندش نے سینکڑوں بچیوں کو بنیادی تعلیم کے حصول سے محروم رکھا ہے۔
علاقے کے رہائشی حسین کے مطابق شین پوخ میں اس وقت تقریباً 500 ایسی بچیاں موجود ہیں جو سکول جانے اور تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں، تاہم علاقے کے واحد گرلز پرائمری سکول کی بندش ان کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا ہے، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بچیاں بھی پڑھیں لکھیں اور تعلیم حاصل کرکے اپنا مستقبل بہتر بنائیں، لیکن اپنے علاقے میں سکول کی بندش اور دوسرے علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں تک طویل مسافت کے باعث ہماری بچیاں بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔‘‘
شین پوخ کی ان بچیوں کے لیے سکول جانا آج بھی ایک ادھورا خواب ہے۔ جس عمر میں ان کے ہاتھوں میں کتابیں، قلم اور بستے ہونے چاہئیں، اس عمر میں ان کا بیشتر وقت گھریلو کام کاج، برتن دھونے اور جھاڑو دینے جیسی روزمرہ ذمہ داریوں میں گزر جاتا ہے۔ سکول کی طویل بندش نے نہ صرف ان کے تعلیمی مواقع محدود کیے ہیں بلکہ آنے والی نسل کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق سکول کو ماضی میں بھی فعال بنانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم تدریسی عملے کی عدم دستیابی کے باعث یہ کوششیں مستقل بنیادوں پر کامیاب نہیں ہوسکیں۔ علاقے میں مقامی خواتین اساتذہ دستیاب نہیں، جبکہ دیگر علاقوں سے آنے والی خواتین اساتذہ طویل مسافت، سڑک کی خراب حالت اور علاقے کی پسماندگی کے باعث یہاں مستقل خدمات انجام دینے سے گریز کرتی ہیں۔
طویل عرصے تک بند رہنے اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث سکول کی عمارت بھی خستہ حالی کا شکار ہوچکی ہے، جبکہ بیت الخلا کی حالت ابتر ہے۔
علاقے کے رہائشی بادشاہ خان نے کہا کہ تدریسی عملے کی عدم دستیابی پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ تھا، تاہم اب عمارت کی خستہ حالی نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالت میں سکول کے اندر تعلیمی سرگرمیاں بحال کی جاتی ہیں تو بچیوں کو عمارت کی خراب حالت کے باعث مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سکول کی مکمل مرمت، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مستقل تدریسی عملے کی تعیناتی یقینی بنائے تاکہ علاقے کی بچیاں بھی تعلیم حاصل کرسکیں۔
دوسری جانب محکمہ تعلیم ضلع خیبر کے ایک عہدیدار نے سکول کی بندش سے متعلق بتایا کہ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول ملک امروز کلے تقریباً پندرہ سال تک بند رہا، جس کی بنیادی وجہ علاقے کا انتہائی دور افتادہ ہونا اور خواتین اساتذہ کی عدم دستیابی ہے۔
ان کے مطابق سال 2024 میں پیرنٹ ٹیچر کونسل (PTC) فنڈ کے ذریعے مردان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ٹیچر کو بھرتی کیا گیا، جس کے نتیجے میں سکول تقریباً پانچ ماہ تک فعال رہا، تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث یہ سلسلہ برقرار نہ رہ سکا اور سکول دوبارہ بند ہوگیا۔
بعد ازاں اکتوبر 2025 میں یونیسیف (UNICEF) کے پروگرام کے تحت سکول کو مزید چھ ماہ تک فعال رکھا گیا، لیکن پروگرام کی مدت مکمل ہونے کے بعد تدریسی عملے کی تعیناتی کا مسئلہ دوبارہ سامنے آگیا۔
ان کا کہنا ہے کہ سکول کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے پی ٹی سی فنڈ کے ذریعے خاتون ٹیچر کی بھرتی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم فی الحال 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کوئی مقامی یا غیر مقامی خاتون ٹیچر یہاں خدمات انجام دینے کے لیے دستیاب نہیں۔
محکمہ تعلیم عہدیدار کے مطابق علاقے کی دشوار گزار جغرافیائی صورتحال، طویل مسافت، خواتین اساتذہ کی عدم دستیابی اور محدود مالی وسائل سکول کی مستقل بحالی میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔
شین پوخ کے اس واحد سکول کی بندش ضلع خیبر میں اپنی نوعیت کا واحد مسئلہ نہیں۔ محکمہ تعلیم کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ضلع بھر میں اساتذہ کی عدم دستیابی کے باعث تقریباً 48 سکول بند تھے، جن میں سے 38 سکولوں کو پی ٹی سی فنڈ کے ذریعے اساتذہ بھرتی کرکے دوبارہ فعال کیا جاچکا ہے، جبکہ باقی تقریباً دس سکولوں کی بحالی کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔
محکمہ تعلیم کے عہدیدار کے مطابق باقی سکولوں کو فعال بنانے کے لیے اساتذہ کی بھرتی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم دور افتادہ علاقوں میں خواتین اساتذہ کی عدم دستیابی اور کم تنخواہ اس عمل میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
محکمہ تعلیم کے عہدیدار نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے دور افتادہ علاقوں میں خواتین اساتذہ کی تعیناتی کے لیے خصوصی مراعات، مناسب تنخواہوں اور مستقل بھرتیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ مستقبل میں بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
شین پوخ کے واحد گرلز پرائمری سکول کی صورتحال ایک ایسے تعلیمی مسئلے کی عکاسی کرتی ہے جہاں سکول کی عمارت موجود ہے، علاقے کے والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے کے خواہش مند ہیں اور سینکڑوں بچیاں سکول جانے کی منتظر ہیں، لیکن مستقل تدریسی عملے کی عدم دستیابی اور محدود مالی وسائل کے باعث تعلیم کا تسلسل برقرار نہیں رکھا جاسکا۔
گزشتہ اٹھارہ برسوں کے دوران سکول کی طویل بندش اور مختصر دورانیے کی عارضی بحالی نے علاقے کی بچیوں کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ اس دوران ایک نسل سکول جانے کی عمر گزار چکی ہے، جبکہ دوسری نسل بھی انہی بند دروازوں کے سامنے کھڑی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شین پوخ کی بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر کسی عارضی پروگرام اور محدود فنڈز کا انتظار کرنا پڑے گا، یا اس مرتبہ سکول کی گھنٹی مستقل بنیادوں پر بج سکے گی؟

