ڈرائیور نے جان بوجھ کر بس کھائی میں گرائی، عینی شاہدین کی میڈیا سے بات
کوئٹہ سےپشاور جانے والی مسافر بس بلوچستان کے ضلع شیرانی کے علاقے دانہ سر کے مقام پر گہری کھائی میں گرنے کے باعث حادثے کا شکار ہو گئی،جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوگئے
ضلعی انتظامیہ ضلع شیرانی کے مطابق ژوب ڈیرہ اسماعیل خان قومی شاہراہ پر حادثے کے وقت بس میں مجموعی طور پر 48 افراد سوار تھے۔ جاں بحق افراد کی میتیں ابتدائی طور پر جائے حادثہ کے قریب واقع رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) منتقل کر دی گئی ہیں، جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہیں جبکہ زخمیوں کو ژوب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کردیا ہے۔

اگرچہ ریسکیو ذرائع کا ابتدائی طور پر کہنا تھا کہ حادثہ موڑ کاٹتے ہوئے بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا،
تاہم حادثے میں بچ جانے والے ایک زخمی مسافر حسین احمد نے چونکا دینے انکشاف کیا ، مسافر نے واقعے کا لرزہ خیز آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہا یہ حادثہ محض اتفاق نہیں بلکہ مسافر سے جھگڑے کے بعد ڈرائیور کی مبینہ غصے اور غفلت کا نتیجہ تھا۔
حسین احمد نے بتایا کہ بس میں تقریباً 48 کے قریب مسافر سوار تھے اور اس میں غیر قانونی ایرانی ڈیزل بھی لوڈ تھا، راستے میں ایک چیک پوسٹ پر بس میں لوڈ ایرانی ڈیزل پکڑا گیا، جس کے باعث ڈرائیور کو نقصان اٹھانا پڑا۔ چیک پوسٹ سے روانگی کے بعد بس ڈرائیور شدید غصے میں تھا اور اس نے ایک سواری پر غصہ نکالتے ہوئے کہا کہ "آپ کی وجہ سے ہمارا ڈیزل ضائع ہوا ہے”، جس پر دونوں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور جھگڑا شروع ہو گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں
دوسری جانب سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس واقعے میں زخمی شخص کے میڈیا پر جاری بیان پر مختلف اراء پیش کی جارہی ہے۔ جس میں ٹرانسپورٹ کمپنی مالک پر ایف آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا جارہا یے اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ سمگلنگ کا کاروبار پبلک ٹرانسپورٹ پر کرنا جرم ہے


