جنوبی وزیرستان: پی پی پی ضلعی جنرل سیکرٹری عمران مخلص نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا،گورنر سمیت سیاسی قائدین کا شدید ردعمل

Noor ali

وانا: جنوبی وزیرستان کے علاقے غوا خوا فرش کے مقام پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت عمران مخلص (عمران اللہ) کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ وانا پیر پاغ کے رہائشی عمران مخلص گزشتہ روز اپنے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے مسلح افراد نے انہیں گاڑی سمیت اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

واقعے کی تصدیق پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر امان اللہ وزیر اور عمران مخلص کے خاندانی ذرائع نے کر دی ہے۔ امان اللہ وزیر نے ’وزیرستان ٹائمز‘ کو بتایا کہ عمران مخلص وانا بازار سے غواء خوا اپنے بچوں کو لینے جارہے تھے کہ راستے میں فرش کے مقام پر گھات لگائے مسلحہ موٹر سائیکل سوار افراد نے انکو اغواء کیا اور اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر لے گئے۔۔
عمران مخلص کے اغوا پر جنوبی وزیرستان کے سیاسی اتحاد اور مقامی قبائلی مشران نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بزدلانہ کارروائی کی بھرپور مذمت کی ہے۔ مشران کا کہنا ہے کہ ایک پرامن اور فعال سیاسی رہنما کا اغوا علاقے کا امن و امان خراب کرنے کی سازش ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور پی پی پی کی صوبائی قیادت نے بھی واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے صوبائی حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ حکام کو فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محب وطن اور انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں، پارٹی اپنے کارکنوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملوث عناصر کو فوری قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔


نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (NDM) کے سربراہ محسن داوڑ نے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اس طرح نشانہ بنانا خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ اسی طرح سیاسی رہنما عبداللہ ننگیال بیٹنی اور دیگرسیاسی قائدین نے بھی واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری بازیابی عمل میں نہ لائی گئی تو سخت احتجاج کیا جائے گا۔


ضلعی صدر امان اللہ وزیر نے وزیرستان ٹائمز کو بتایا کہ عمران مخلص علاقے کی ایک متحرک اور مثبت سوچ رکھنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں. عمران مخلص نے سال 2010 میں گومل یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹر کیا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی سیاست میں قدم رکھا۔ وہ ابتدائی طور پر آزاد حیثیت میں اور بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔ ان کے پسماندگان میں تین بچے شامل ہیں۔


سیاسی و سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران مخلص کی محفوظ بازیابی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر شدید احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے