باجوڑ: افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں پاکستانی سول آبادی پر بلا اشتعال گولہ باری کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں بدھ کی رات 3 مقامی شہری شہید ہو گئے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے نہتے شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور بزدلانہ فعل ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا، خاص طور پر روسی جارحیت کے کٹھن وقت میں لاکھوں افغانوں کو پناہ اور چھت فراہم کی۔ مگر آج وہی لوگ احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی عوام پر گولے برسا کر علاقے کا امن تباہ کر رہے ہیں۔ اب ان سے کسی خیر کی توقع رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراء کی تمام تر توجہ صرف اڈیالہ اور مردان جیل کے چکروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے باجوڑ کا دورہ تو کیا مگر ان کے وعدے اور اعلانات تاحال صرف کاغذوں تک محدود ہیں، عملی طور پر عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

