شہید صحافی زمان محسو د کے ورثاء تاحال حکومتی امداد سے محروم۔

zaman-pic-Copy.jpg

ڈیرہ اسماعیل خان: شہید صحافی زمان محسود کے ورثاء تین ماہ گزرنے کے باوجود بھی امداد سے محروم ہیں اور ٹانک کی مقامی انتظامیہ نے ابتک کوئی بھی مالی مدد نہیں کی،نہ ہی شہید پیکج دیا گیا ہے۔ سماجی کارکن حیا ت محسود نے کہا کہ جس دن صحافی زمان محسود کو شہید کیا گیا تو اس دن ٹانک ضلعی انتظامیہ نے ایمبولینس کو سیکورٹی دینے سے صاف انکار کیا تھا جس کے بعدجنوبی وزیرستان پولیٹکل انتظامیہ نے ٹانک انتظامیہ کے حدود میں ایمبولینس کو سیکورٹی دے کر زمان محسود کی نعش کو انکے گھر نرسز پہنچایا۔ حیات نے مذید کہا کہ اب تک شہید صحافی کے ورثاء کو امداد نہ دینا باعث تشویش اور قابل مذمت ہے۔
شہید صحافی زمان محسود کے بھائی کا کہنا ہے کہ ٹانک ضلعی انتظامیہ نے ہماری کوئی امداد نہیں کی۔اور پولیٹکل انتظامیہ نے بھی ٹانک ضلعی انتظامیہ کو درخواست لکھے ہیں اور زمان محسود کے قتل کی ایف آئی ار بھی درج ہے لیکن تاحال کوئی عمل نظر نہیں ایا۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر ٹانک سے موقف جاننے کے لئے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر موصوف سے رابط نہیں ہو پایا۔
صحافی ایوب بیٹنی نے کہا کہ زمان نے ٹانک کے مسائل کو اجاگر کیا تھا لیکن افسوس کسی سیاسی پارٹی یا سول سوسائٹی نے بھی ان کے معصوم بچوں کیلئے آواز نہیں اٹھائی۔

یاد رہے کہ زمان محسود 3 نومبر 2015 کو اپنے گھر نرسز سے ٹانک آرہے تھے کہ ڈسٹرکٹ ٹانک کی حدود کوڑ کیمپ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے زمان محسود کو شہید کر دیا۔ زمان محسود کے لواحقین میں ایک بیوہ،تین بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں