پشاور کی صحافی برادری کا جبری برطرفیوں کیخلاف تحریک چلانے کا فیصلہ

9cdaa5b7-b973-405f-8cdc-4b35dffd697e-8.jpg

پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس اور صوبائی وزیراطلاعات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

پریس کلب کے سیکرٹری جنرل ظفر اقبال کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے مشترکہ اجلاس میں میڈیا اداروں سے صحافیوں اور کارکنوں کی جبری برطرفی کے خلاف صوبائی اسمبلی کے موجودہ سیشن کے مکمل بائیکاٹ سمیت اہم فیصلے کئے گئے۔

بیان کے مطابق پشاور سمیت ملک بھرمیں میڈیا اداروں سے صحافیوں اور کارکنوں کی جبری برطرفی کے خلاف احتجاجی تحریک پر غور کے لئے پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کا مشترکہ اجلاس پریس کلب کے صدر سید بخار شاہ اور سیف الاسلام سیفی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے ارکان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس میں شرکاء کی اکثریت نے میڈیا اداروں سے صحافیوں کی جبری برطرفی، تنخواہوں میں کٹوتی اور کئی کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کو ملک میں آزاد صحافت پر ضرب کاری اور صحافیوں کا معاشی قتل عام قرار دیتے ہوئے احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے رواں سیشن کی کوریج کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں اسمبلی کور کتنے والے تمام ساتھی حسب معمول اسمبلی آئینگے اور تلاوت کلام پاک کے فوری بعد ایوان سے بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے اپنے دفاتر کے لئے ایک ساتھ روانہ ہونگے۔

اسی طرح گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ شام کو گورنر ہاوس میں رکھی گئی ملاقات اور عشائیہ کے بائیکاٹ کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے انہیں آج پیر، کے روز پریس کلب انے سے روک دیا گیا

علاوہ ازیں جبری برطرفیوں کے خلاف اور ان اداروں کے اشتھارات کی بندش کے لئے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائرکرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا جس کے لئے ایک بار پھر برطرف ہونے والے ساتھیوں سے اپنے کوائف جلدازجلد پریس کلب کے پاس جمع کرانے کی درخواست کی گئی۔

اجلاس میں ہونے والے فیصلہ کے مطابق سرکاری تقریبات میں شرکت کے دوران پریس کلب اور خیبر یونین کے ارکان سیاہ پٹیاں باندھیں گے جبکہ کل 12 فروری سےصحافیوں کی برطرفی اور ان کی بحالی کے لئے پشاور پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا جو روزانہ گیارہ سے دو بجے تک جاری رہے گا۔

اجلاس میں برطرف صحافیوں کے لئے تشکیل دی جانے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو توسیع دینے اور اسے مزید فعال بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں تجویز دی گئی کہ جو صحافی پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے اس مشترکہ غیرمعمولی اجلاس میں ہونے والے ان فیصلوں کی خلاف ورزی کریں گے پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس میں ان کی رکنیت معطلی سمیت ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرے۔

اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ صحافیوں کی بحالی اور ان کے حقوق کے حصول کے لئے آخری حد تک جانے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے ارکان کو ان احتجاجی سرگرمیوں میں بھرپور اور فعال شرکت کی تاکید کرتے ہوئے توقع کا اظہارکیا گیا کہ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے باہمی اتحاد سے احتجاجی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔