انٹرنیٹ سروس کی بندش، نوجوانوں کا احتجاجی مظاہرہ

Noor ali

جنوبی وزیرستان کے علاقوں تیارزہ گیٹ، وچہ خوڑہ، مچن بابا، گژے پیزہ اور وانا شہر میں گزشتہ دو ماہ سے موبائل انٹرنیٹ سروس کی بندش کے خلاف شہریوں نے پرامن احتجاج کرتے ہوئے سروس کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔

تیارزہ( گژے پیزہ )میں نوجوانوں نے پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر”نیٹ ورک کی بحالی حکومت کی ذمہ داری ہے” اور "موبائل انٹرنیٹ ہماری ضرورت اور حق ہے” جیسے نعرے درج تھے

احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ موبائل نیٹ ورک کی مسلسل بندش کے باعث تعلیمی، کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق طلبہ آن لائن تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ تاجر اور کاروباری افراد بھی روزمرہ کے معاملات میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے کہا کہ موبائل انٹرنیٹ سروس کی بحالی حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے اور شہریوں کو بنیادی مواصلاتی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹ ورک تک رسائی ان کا انسانی، آئینی اور جمہوری حق ہے، جس سے انہیں محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

احتجاجی شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کئے تو آئندہ چند روز میں ٹانک–ڈیرہ اسماعیل خان مین شاہراہ ہر قسم کی آمدورفت کے لئے بند کر دی جائے گی۔مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لئے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی طویل بندش کے باعث ہزاروں شہری متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ اہلیان علاقہ تیارزہ گیٹ، مچن بابا، وچہ خوڑہ اور گژے پیزہ نے متعلقہ حکام سے اس مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا ہے۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے