جب خطے میں بارود کی بو اور شدت پسندی کا راج تھا، تب بھی جنوبی وزیرستان لوئر سب ڈویژن وانا ایک نایاب مثال پیش کر رہا تھاایک ایسی مثال جہاں مسلم اور مسیحی برادری ایک ہی زبان بولتے ایک ہی بازار سے سودا سلف لیتے اور دھماکوں کے دور میں بھی ایک دوسرے کی ڈھال بنے رہے۔
قبائلی صحافی نور علی وزیر کہتے ہیں کہ ”شدت پسندی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لیا لیکن وانا میں کبھی کسی مسیحی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں کسی مسیحی کو اغوا یا تاوان کے لیے نشانہ بنایا گیا ہو مقامی آبادی نے کبھی تعصبانہ رویہ نہیں دکھایا اور ہم دہائیوں سے ایک ساتھ امن سے رہتے آئے ہیں.”
دو دہائیوں کی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کے باوجود ایک صدی سے زائد عرصے سے آباد مسیحی برادری کوسر چھپانے کی جگہ نہ ملنے کے باعث اپنے آباؤ اجداد کی مٹی چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
وانا کے رہائشی رفاقت مسیح کہتے ہیں کہ سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ خوشی کے ساتھ ایک گہرا صدمہ بھی ساتھ لاتی ہے۔ کیونکہ پھر ہمیں سرکاری کوارٹر خالی کرنا پڑتا ہے جس میں ہم نے زندگی کے خوبصورت سال گزارے۔
رفاقت مزید بتاتے ہیں کہ میں یہاں پیدا ہوا میرے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور جنوبی وزیرستان کا ڈومیسائل ہے میرے آباؤ اجداد اسی مٹی میں دفن ہیں لیکن ریٹائرمنٹ کا مطلب یہ ہے کہ اب ہمیں یہاں سے جانا ہوگاکیونکہ یہاں ہمارے لیے کوئی گھر ہے نہ زمین خریدنے کا کوئی قانونی یا قبائلی بندوبست۔
شوکت مسیح کی کہانی بھی اس المیے کی کیفیات بیان کرتی ہے۔ ان کے والد 14 سال کی عمر میں منزئی سے وانا منتقل ہوئے تھے اور 107 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ شوکت مسیح کا کہنا ہے کہ ہمارے والد اور ان کے تمام بچوں نے اپنی زندگی وانا کی خدمت میں گزاری لیکن اب یہاں ریٹائر ہونے والے ملازمین کے پاس پنجاب یا دیگر اضلاع منتقل ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا
شوکت مذید کہتے ہیں کہ المیہ یہ ہے کہ جب ہمارے لوگ دہائیوں بعد وزیرستان سے دوسرے شہر جاتے ہیں تو وہاں ہم انجان ہوجاتے ہیں کیونکہ کوئی انہیں جانتا ہی نہیں۔ شوکت نے مذید کہا کہ ہم دہشت گردی یا گولی کے خوف سے نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر نہ ملنے کے کی وجہ سے پریشان ہوجاتے ہیں
خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقار نسواں (KPCSW) جنوبی وزیرستان کی ممبر سنبل مشتاق جو جنوبی وزیرستان میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ”بے دخلی اور نقل مکانی کا سب سے گہرا اثر ہماری خواتین اور بچوں پڑا ہے کیونکہ جب ایک خاندان دہائیوں پرانے گھر سے بے دخل ہوتا ہے تو صرف اینٹ پتھر کا مکان نہیں چین جاتا بلکہ ایک پورا حسیاتی اور سماجی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔
سنبل مشتاق مذید کہتی ہیں کہ دوسرے شہروں میں منتقل ہونے والے خاندان بکھر گئے ہیں اور ہماری اکثر خواتین کا اپنی برادری اور رشتہ داروں سے میل جول ختم ہوگیا ہے جو ان کے دکھ درد کا سہارا تھے اور یہ خواتین کو بہت پریشان کرتی ہیں
صوبے میں براجمان حکومتی پارٹی پاکستان تحریک انصاف سدرن ریجن کے اقلیتی سربراہ اور مقامی نمائندے آکاش مسیح بتاتے ہیں کہ رہائشی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اب تک 100 سے زائد مسیحی خاندان جنوبی وزیرستان سے اپنا آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں
آکاش مسیح اس بحران کی بنیادی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ قبائلی ڈھانچے کی بنا پر مسیحی برادری کے پاس یہاں خود زمین خریدنے کا حق نہیں ہے کیونکہ مقامی روایات کے تحت ہمیں روایتی ‘قبیلہ’ تسلیم نہیں کیا جاتا جو نفع و نقصان یا زمین کی ملکیت میں برابر کا حصہ رکھتا ہو۔
اکاش مذید بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے تمام مسیحی خاندان سرکاری اداروں جیسے فرنٹیر کور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، میونسپلٹی اور مقامی انتظامی میں ملازمت کے دوران ملنے والے کوارٹرز میں رہتے ہیں اور ملازم کی ریٹائرمنٹ کا سیدھا مطلب خاندان کی بے دخلی ہے۔
آکاش مسیح نے مزید انکشاف کیا کہ حکومت کی جانب سے وعدوں کے باوجود اس مسئلے پر عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سے صرف ضلع خیبر میں اقلیتی خاندانوں کے لیے گھروں کا ایک منصوبہ بنایا گیا تھا جس سے کچھ خاندان مستفید ہوئے لیکن اکثریت ابھی تک اس مسئلے سے دوچار ہے۔ ضلع جنوبی وزیرستان لوئر میں سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے سال 2021-22 میں محکمہ اوقاف کی جانب سے وانا میں ایک ہاؤسنگ منصوبے کو شامل کیا گیا تھالیکن تاحال اس پر عملدرآمد کے حوالے سے کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
اکاش مسیج نے اسکے علاوہ وانا میں عبادتی جگہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا اگرچہ وانا میں چرچ موجود ہے لیکن چونکہ وہ سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کی حدود کے اندر واقع ہے اس لیے بعض اوقات کیمپ سے باہر رہنے والے عام مسیحی شہریوں کو وہاں تک جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے وانا میں ایک الگ چرچ اور مستقل ہاؤسنگ سوسائٹی وقت کی شدید ترین ضرورت بن چکی ہے
وانا ہی کے ایک اور رہائشی سیمسن مسیح کہتے ہیں کہ ہم پشتو بولتے ہیں مقامی قبائلی روایات کو سمجھتے ہیں اور ہمارا اوڑھنا بچھونا وزیرستان میں ہی ہے ہمیں جنوبی وزیرستان جب دہشگردی کا شکار تھا اس دوران بھی اپنے عقیدے پر عمل کرنے سے ہمیں کسی نے نہیں روکا، شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کے مسائل حل ہو گئے لیکن اب اص مسئلہ سر چھپانے کی جگہ کی ہے
جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنر مسرت زمان کے مطابق انتظامیہ اقلیتوں کے مسائل سے آگاہ ہے اور ڈومیسائل و قبرستان جیسے مسائل حل کیے گئے ہیں اور ہاؤسنگ کالونی کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اقدامات کیے جارہے ہیں
تاہم مقامی اقلیتی نمائندوں اور ریٹائرڈ ملازمین کا کہنا ہے کہ جب تک کاغذات سے نکل کر عملی کام نہیں ہوتا آباؤ اجداد کی مٹی سے محبت کرنے والے یوں ہی بے گھر ہوتے رہیں گے
شدت پسندی کے سامنے ڈٹ جانے والی اس پرامن برادری کا اب حکومت سے صرف ایک ہی سوال ہے کہ کیا دہائیوں کی خدمت اور اسی مٹی میں آباؤ اجداد کی تدفین کے بعد ہمیں اپنے ہی وطن میں بے وطن کر دیا جائے گا؟؟؟


