جنوبی وزیرستان وانا،مدرسہ پر مبینہ ڈرون حملہ، مولوی امان اللہ جاں بحق

فاروق

جنوبی وزیرستان: تحصیل وانا کے گاؤں لنڈی ڈوگ میں ایک مدرسے پر مبینہ ڈرون حملے میں مولوی امان اللہ نامی ایک دینی عالم جاں بحق ہو گئے ہیں۔​مقامی لوگوں اور مقتول کے رشتہ داروں نے بتایا ہے کہ یہ حملہ 28 جولائی کو مولوی عبدالصمد فقیر کے مدرسے پر ہوا، جس میں ان کا بیٹا مولوی امان اللہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔تاہم ابھی تک ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی حکام نے نہ تو اس حملے کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

​مقامی لوگوں نے مولوی امان اللہ کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے منتخب نمائندوں، قومی رہنماؤں اور جرگے سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ رہائشی علاقوں کے اوپر ڈرون پروازوں اور حملوں کا معاملہ صوبائی اور قومی اسمبلی میں اٹھائیں۔​علاقے کے لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہری آبادیوں، گھروں اور مدرسوں پر ڈرون حملے فوری طور پر بند کیے جائیں، مولوی امان اللہ کے قتل کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) لوئر وزیرستان نے لنڈی ڈوگ میں ایک مدرسے پر مبینہ ڈرون حملے میں مولانا امان اللہ کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ جنوبی وزیرستان لوئر جعمیت علماء اسلام نے واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

جے یو آئی (ف) لوئر وزیرستان کے شعبہ نشر و اشاعت کی جانب سے جاری بیان میں مولانا امان اللہ کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ علاقے میں پائیدار امن کا قیام حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ آئے روز پیش آنے والے بدامنی کے واقعات سے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہو رہے ہیں۔جس پر شدید تشویش ہے

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے