قبائلی اضلاع میں قومی نشستوں کی تعداد 6 سے برھا کر12اور صوبائی نشتیں12سے بڑھا کر24آئنی ترمیمی بل منظور

38749778_2062385897165112_5224556535643897856_n.jpg

قومی اسمبلی میں 26 واں ائینی ترمیمی بل پاس ہوا جوکہ قبائلی اضلاع میں انتخابی قومی نشستوں کی تعداد 6 سے برھا کر 12 اور صوبائی نشتیں 12 سے بڑھا کر 24 صوبائی نشتیوں کا آئنی ترمیمی بل منظور ہوا, جوکہ خوش آئین بات ہے


یوں تو ترقیاتی فنڈ عوامی نمائندوں کے ذرئع استعمال ہوگا اور نمائندے عوام کے خود چھنے ہونگے اور مسلہ حل کرنے میں اسانی ہوگی

جنوبی وزیرستان قومی وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری پیربین یامین محسود نے بتایا کہ اب خدارا اس تھوڑے سے کام پر بہت سارا وقت نہ لگائیں اور حقیقی معنوں میں فاٹا کے عوام کو پاکستانیت کا حق دے کر ان کے اپنے منتخب نمائندوں کو صوبائی ایوان میں جلد آنے دیں، اس اقدام سے فاٹا کے مسائل عوامی نمائندوں کے ذرئع جلد ہونگے،

لیکن اس پراسیز پر ذیادہ وقت لینا اور الیکشن لیٹ کرنا فاٹا کے عوام کے ساتھ ذیادتی ہوگی جبکہ دوسری طرف سماجی کادکن رقیب اللہ محسود کا کہنا تھا کہ اگرصوبائی اسمبلی کے الیکشن ہوجاتے تو اس کا یہ فائدہ بھی ہوتا کہ جولائی کی اے.ڈی.پی ڈیڈک کے ذریعے صوبائی اسمبلی کج ایم پی ایز خرچ کرتے اور الیکشن کے لیٹ ہونے سے ڈپٹی کمیشنر اور ایم.این.اے خرچ کریں گـے

جبکہ سماجی و سیاسی کارکن سیف اللہ سیفی کا کہنا تھس کہ اب فاٹا کے عوام بہتر مستقبل کے خواب پایہ تکمیل کو پنچ جاینگے۔سیٹں ذیادہھونے سے علاقائ مسائل میں کمی اجائگی۔اور اس سے ترقیاتی کام ھر گاوں میں بااسانی میسر ھو گی۔تعلیم، صحت روزگار اور کمیونکیشن کے مواقع پیدا ھونگے۔قومی اور صوبائ اسمبلی میں اپنے حقوق کلیے مثبت اواز اٹھائنگے۔۔۔