فاٹا مرجر اصلاحات یا مفادات کی جنگ

تحریر: عرفان الدین محسود


فاٹا میں نئے قوانین کے نفاذ سے متعلق جنگ فاٹا کے عوام کی مفادات کی جنگ نہیں بلکہ مختلف ادارے اور اشخاص اپنی مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
ہر طبقہ چاہے وہ سیاسی ہو یا سول و ملٹری بیوروکریسی وہ اپنے مفادات کو تحفظ دینے میں کوشاں ہیں، جبکہ فاٹا کی عوام کا نا تو پچھلے ستر سالوں میں کوئی خیال رکھا گیا اور نہ آج رکھا جا رہا ہے ۔اس کی مثال حالیہ دنوں میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے چیف سیکرٹری نویدکامران اور آئی جی پولیس صلاح الدین محسود کا تبادلہ ہے ۔ بات صرف اتنی تھی کہ یہ دونوں صاحبان اس حق میں تھے کہ فاٹا میں بھی پولیس کا ایسا ہی نظام رائج کیا جائے جو خیبر پختون خواہ اور دیگر صوبوں میں رائج ہے۔جبکہ پاکستان کے ڈی ایم جی گروپ کے وہ افسران جو کہ فاٹا کے نظام کا خوب فائدہ اٹھا چکے ہیں وہ اس چیز کے خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ فاٹا میں ڈی ایم جی کا یہ تسلط کسی نا کسی شکل میں قائم رہے، اس رسہ کشی کی پہلی کڑی فاٹا کے لیویز اور خاصہ دار فورس کا کنٹرول ہے ۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ نویدکامران بلوچ بھی تو ڈی ایم جی گروپ سے ہی ہیں تو انہوں نے لیویز اور خاصہ دار فورس کو پولیس میں ضم کرنے کی مذمت کیوں نہیں کی؟ 
اس کا سادہ سا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ ان کا تعلق بھلے خیبر پختونخواہ سے نہیں لیکن وہ صرف قومی اور فاٹا کی مفاد کی سوچ رکھتے تھے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ لیویز اور خاصہ دار فورس کو ڈی ایم جی گروپ اور پولیٹیکل ایجنٹ اپنے ماتحت اور پولیس علیحدہ فورس کے طور پر کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟
اس سوال کا جواب ہی سارے معاملے کو بے نقاب کرتا ہے ۔
لیویز اور خاصہ دار فورس کو علیحدہ فورس کے طور پر اپنے ماتحت رکھنے کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں ۔
1: تاریخی طور پر پولیٹیکل ایجنٹ فاٹا میں ایک بے تاج بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے پاس عدلیہ اور ایگزیکٹیو کے تمام اختیارات تھے، یعنی پولیٹیکل ایجنٹ کے اختیارات کسی ایجنسی میں صدر پاکستان سے بھی زیادہ تھے کیونکہ صدر پاکستان کے کسی بھی اقدام کے خلاف آپ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں لیکن آپ پولیٹیکل ایجنٹ کے خلاف عدالت نہیں جا سکتے ۔
2: قانون کے لحاظ سے لیویز فورس کا کمانڈنٹ پولیٹیکل ایجنٹ/ڈی سی او ہوتا ہے جو کہ لیویز میں ہر طرح کی بھرتیوں کا حق رکھتا ہے، اس طرح فاٹا کا ڈی سی کبھی نہیں چاہے گا کہ اس سے سرکاری نوکریاں بانٹنے کے اختیارات لے لئے جائیں ۔
3: فاٹا کے علاقے بین الاقوامی بارڈر( افغانستان ) کے ساتھ واقع ہیں، لہذا بین الاقوامی سرحد کی وجہ سے فاٹا کے علاقے مختلف قسم بشمول منشیات کی اسمگلنگ کے لئے مشہور ہیں ۔
لیویز اور خاصہ دار وہ فورس ہیں جو اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے ذمہ دار ہیں، اس اسمگلنگ میں بے تحاشہ پیسہ انوالو ہے۔ اگر لیویز اور خاصہ دار ڈی سی کے ہاتھوں سے نکل جائیں تو وہ ایک منافع بخش فورس سے محروم ہو جائیں گے، جو کہ پولیس اور ڈی ایم جی گروپ کے درمیان چپقلش کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔
4: فاٹا میں پولیس ایکٹ لاگو اور فاٹا میں پولیس متعارف کرانے کے خلاف ایک مخصوص طبقہ اپنے مخصوص مفادات کی خاطر پولیس ایکٹ کی اس طرز پر عملدرآمد نہیں کرانا چاہتی ہے جیسا کہ پاکستان کے دوسرے علاقوں یا صوبوں میں نافذ ہے۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ فاٹا میں دو رویہ نظام یعنی پولیس اور لیویز کا نافذ رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ فاٹا میں پرانے زمانے کے پولیٹیکل ایجنٹ کا کردار کسی نا کسی شکل میں برقرار رکھا جائے ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ساری جنگ میں فاٹا کی عوام کے مفادات کا کوئی بھی نہیں سوچ رہا بلکہ ہر گروپ، ہر ادارہ و طبقہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ میں لگا ہوا ہے ۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ فاٹا کی عوام کے مفاد میں کیا ہے؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جو چیز پورے پاکستان کے مفاد میں ہے وہی فاٹا کے مفاد میں ہے ۔
پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ میں صرف ایک پولیس تو فاٹا میں دو پولیس کیوں؟
جتنے زیادہ ادارے ہونگے اتنی ہی زیادہ ذمہ داری تقسیم ہوگی اور اتنی زیادہ لوگوں کی تکلیفات بڑھیں گی ۔
اسی طرح مقامی اداروں میں چپقلش بڑھے گی ۔
اس کی سادہ مثال یہ ہے کہ جہاں پر مالی فائدہ زیادہ ہوگا وہاں پر پولیس، لیویز اور خاصہ دار چیک پوسٹیں قائم کریں گے اور جہاں پر لوگوں کے مسائل حل کرنے اور مشکلات کم کرنے کی بات ہوگی وہاں پر دونوں ادارے ذمہ داری لینے سے گریز کریں گے اور ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالیں گے ۔ اس طرح لوگوں کو ایک ادارے کے بجائے دو دو اداروں، دو دو چیک پوسٹوں کی جوابدہی کرنی ہوگی۔

جو لوگ پولیس ایکٹ کے فاٹا میں توسیع اور لیویز و خاصہ دار فورس کے پولیس میں ضم ہونے کے مخالف ہیں ان کا کہنا ہے کہ فاٹا میں پولیس کو اس شکل میں جس طرح باقی پاکستان میں کام کر رہی ہے اس لئے نہیں لا سکتے کیونکہ فاٹا کی عوام کے لئے پولیس کا تجربہ نیا ہوگا اور اس لئے وہ لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا ۔ یہ منطق کہ فاٹا کی عوام نے پولیس نہیں دیکھی مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر قابل قبول نہیں ۔
1: فاٹا کے تمام ایجینسیوں کے لوگ معاشی طور پر کاروباری اور نوکریوں کے لحاظ سے خیبر پختونخواہ کے بندوبستی علاقوں سے بندھے ہوئے ہیں ۔ 
مثال کے طور پر وزیرستان کے لوگ کاروبار، سرکاری و غیر سرکاری نوکریوں، اشیاء خرد و نوش و دیگر ضروریات کے لئے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور پاکستان کے دوسرے شہروں بشمول کراچی و اسلام آباد پر انحصار رکھتے ہیں ، اسی طرح شمالی وزیرستان کے لوگ بنوں اور لکی مروت، کرم کے لوگ کوہاٹ اور پشاور، خیبر ایجنسی کے لوگ پشاور، مہمند ایجنسی کے لوگ پشاور اور مردان جبکہ باجوڑ ایجنسی کے لوگ مالاکنڈ اور مردان سے معاشی طور پر بندھے ہوئے ہیں اس کا مطلب ہے کہ فاٹا کے لوگ بشمول پولیس و دیگر اداروں سے روابط میں ہیں اور ہر قسم کے قانون سے بخوبی واقف ہیں ۔
2: فاٹا کے لوگ بیرون ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں کام کرتے ہیں اور وہاں کے ہر قسم کے قوانین سے ناصرف بخوبی آشنا ہیں بلکہ ان قوانین کی من و عن پاسداری بھی کرتے ہیں، لہذا یہ کہنا کہ فاٹا کے لوگ جدید قوانین سے ناآشنا ہیں بلکل غلط ہے ۔
3: 2004 سے فاٹا میں فوجی آپریشنز شروع ہونے کے بعد فاٹا کے سارے لوگ نقل مکانی کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں پچھلے پندرہ سالوں سے رہائش پذیر ہیں، کاروبار اور مزدوری کرتے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ پچھلے پندرہ سالوں سے فاٹا کے لوگوں کو پاکستان کے ان علاقوں جیسے لاہور، کراچی، اسلام آباد میں آباد فاٹا کے لوگ ہر قسم کے پاکستانی قوانین سے آشنا بھی ہیں اور ان پر عملداری بھی کرتے ہیں ۔ لہذا جو لوگ فاٹا میں مختلف قسم کے قوانین کی وکالت کرتے ہیں وہ صرف ذاتی یا ادارہ جاتی مفاد کی خاطر یہ سب کچھ کر رہے ہیں ۔
4: سب سے اہم بات یہ ہے کہ پچھلے پندرہ سالوں سے فاٹا میں پاک آرمی آپریشنز کر رہی ہے اور وہاں پر قانون نافذ کرنے اور سیکیورٹی کی ذمہ داری پاک فوج کے پاس ہے۔
ہم سب کو احساس ہے کہ آرمی کے قانون پر عملداری سولین اداروں بشمول پولیس سے زیادہ سخت ہے اور آرمی کی عملداری فاٹا کے عوام نے قبول کی ہے اور پچھلے پندرہ سالوں سے اس کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔
لہذا ایسے یہ کہنا کہ فاٹا کے لوگ پولیس کے قوانین اور حکمرانی سے نا آشنا ہیں بالکل غلط ہے کیونکہ فاٹا کے لوگ تو پولیس سے سخت قانون کے تحت پچھلے پندرہ سالوں سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے سخت قوانین جس کے تحت پاکستان کے باقی علاقے بھی زندگی نہیں گزار رہے۔
لہذا فاٹا میں پولیس ایکٹ کے نفاذ اور لیویز کو علیحدہ فورس کے طور پر رکھنے کے پیچھے انفرادی و ادارا جاتی مفادات کارفرما ہیں ناکہ فاٹا کی عوام کے مفادات ۔اس وقت ہر شخص اور ہر ادارہ اس دوڑ میں لگا ہوا ہے کہ وہ فاٹا کے حالات سے کسی طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔





عرفان الدین محسود سماجی کارکن اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ظفراباد کے نائب ناظم ہیں، رابطے کے لیئے یہاں کلک کریں

نوٹ: وزیرستان ٹائمز اور اس کی پالیسی کا  بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ editor@waziristantimes.com  پر ای میل کریں۔