ٹشو پیپر

عادل پرویز
بجلی صبح سے نہیں آرہی، گیس بند ہے،، سر یہ پٹی تو چلوادیں، پولیس نے ہمارے گھرپرچھاپہ مارا ہے،، ہماری بے عزتی ہوئی ہے۔ جلدی فلاں فلاں تھانے پہنچ جائیں، آگ لگی ہے ابھی تک فائیربریگیڈ نہیں پہنچی، میں بائیک پر جارہا تھا پولیس نے حوالات میں بند کردیا ہے،، کچھ کریں، دھماکہ ہوا ہے جلدی پہنچیں، اسپتال میں ڈاکٹر نہیں، بستر نہیں، تنخواہ نہیں ملی، ہمیں مستقل نہیں کیاجارہا، ڈی سی کا دورہ ہے،، سی سی پی او ایس ایس پی کی پریس کانفرنس ہے پلیز کور کرلیں،، اور اس جیسے بیسیوں اور کوریج کے دعوت نامے اور التجائیں ہم صحافی روز سنتے آئے۔ دو سفید بال لے کر اس صحافت کا آغاز کیا اور آج آدھے سر کے بال سفید ہوگئے۔ کچھ نے تو شکریہ اداکیا اور بہت سوں نے کام کے بعد نام بھی یاد نہیں رکھا۔ لیکن ہم فیلڈ جرنلسٹس کام کرتے رہے۔ کبھی تنخواہ تاخیر سیملی تو کبھی نہیں ملی،، توکوئی پرواہ نہیں کی، لیکن اگر کسی اور کو نہ ملی تو اس کی خبر ضرور دی۔ اپنی پروموشن نہ ہوکسی تو کوئی غم نہیں لیکن دوسروں کیلئے وسیلہ ضرور بنے۔ اپنے گھر والوں کافون سنا نہ سنا،، لیکن غیروں کے فون سننے کو ہر وقت تیار رہے۔ لیکن آخر میں کیا صلہ ملا۔ بکاو میڈیا، میڈیا ٹرائیل کرنے والیصحافی، یہ صحافی صرف شر پھیلاتے ہیں، ان کو تو اچھی خبر ملتی ہی نہیں، لو پہنچ گئے کیمرے لے کر، کبھی سچ بھی بولا کرو،،
جیسے درجنوں اور طعنے۔ گذشتہ دنوں ایف ائی اے نے سوئی ناردرن گیس کے تین ملازم غیر قانونی کنکشنز دینے کے الزام میں گرفتارکئے۔ خبر ایف ائی اے نے تصاویر کے ساتھ جاری کی۔ لیکن جب میڈیا نے چلائی تو سوئی گیس ملازمین نے ایف ائی اے کی بجائے میڈیا کیخلاف ہی مظاہراکرڈالا، مقررین نے بھرے مظاہرے میں میڈیا کو مخاطب کرکے کہا کہ ہمارے بے گناہ ملازمین کا میڈیا ٹرائیل کیا۔ جس کا حق انہیں کس نے دیا؟ تو بھائی اگر ایف آئی اے یا پولیس کسی کو ملزم قراردیتی ہے،، تو ہم کون ہوتے ہیں انہیں پریس ریلیز جاری کرنے سے منع کرنے والے۔۔ لیکن یہان بھی میڈیا قصوروار۔۔ اگر پشاور شہر میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے سوا کچھ نہیں تھا تو اچھی خبر کہاں سے دیتے؟ اگر بے گناہ لوگ مارے جاتے رہے، ہر داڑھی والا، چادر اوڑھنے والا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گرد لگا تو میڈیا کیا کرتا۔ ہر قبائیلی ان اداروں کو شکل سے ہی دہشتگرد لگتا تھا،، توہم کیا کرسکتے تھے۔ کسی علاقہ میں بیماری پھیلی تو ہم نے نشاندہی کی، کسی محکمہ میں کرپشن ہوئی تو نشاندہی کی، دن دیکھا نہ رات کام میں لگے رہے۔ لفافہ صحافی ہیں سب،، یہ طعنے سننے کو ملے، سب برداشت کیا۔ لیکن مہنگائی، بد امنی، کرپشن، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ظلم کا شکار بننے والے عام شہریوں،،،، کبھی اپنے گریبان میں جھانکنا تو سوچنا کہ اس سب کے بدلے میں ہم صحافیوں کو کیا ملا؟
ہم صحافی وہ ٹشو پیپرہیں جس کااستعمال بہت ہوچکا۔۔ لیکن کم از کم اس ٹشو پیپر کو کسی سڑک پر پھینکنے کی بجائے کسی ری سائیکل بن میں ضرور ڈالیں۔۔ ہوسکتا ہے کہ مزید کسی کام بھی آسکیں۔

 عادل پرویز سینئر صحافی ہیں اور پاکستانی ٹی وی چینل جیو نیوز کے ساتھ منسلک ہیں۔

عادل پرویز سے رابطے کے لیے یہاں کلک کریں

نوٹ: وزیرستان ٹائمز اور اس کی پالیسی کا  بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ editor@waziristantimes.com  پر ای میل کریں۔