جب محافظ شکاری بن جائیں!

تحریر: ثمرینہ خان وزیر

فروری ٢٠١٧ میں انڈیا کے علاقے اتر پردیش میں (CBI) سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن کورٹ نے دو پولیس انسپکٹرز اور دو کونسٹبل کو نومبر ١٩٩٦ میں چار روزانہ ویجز ملازمین کو انکاؤنٹر میں قتل کر دینے پر عمر قید اور جرمانے کی سزا دی. ان چار پولیس اہلکاروں کو قتل، ثبوت کی تباہی اور جھوٹے ثبوت دینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا. غربت کے مارے یہ مقتولین روزگار کی تلاش میں گئے تھے جہاں وہ چائے کے ڈھابے پر بیٹھے تھے جب انکو پولیس نے وہاں سے اٹھایا اور تشدد کے بعد قتل کر دیا تھا. دو دہایوں تک چلنے والے اس کیس میں فارنسک انویسٹیگیشن نے اپنا کام کیا اور بل آخر مجرموں کو سزا ہویئ جنکو پہلے پولیس نے کلیر چٹ دی تھی اور جھوٹی کہانی بنائی گئی تھی کہ مقتولین نے ان پر فائرنگ کی تھی جب وہ کسی اور کیس کے مجرموں کو گاڑی میں لے کر جا رہے تھے اور فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے. CBI کے پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت سے مجرموں کے لئے سزائے موت مانگی تھی.

اسی طرح ٢٠١١ میں ایک کاروباری شخصیت کے فیک پولیس انکاؤنٹر کے کیس میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے ضمانت رد کرتے ہوئے اظہار برہمی کیا اور کہا کہ فیک پولیس انکاؤنٹر میں ملوث اہلکاروں کیلئے لازمی ہے کہ انکو سزائے موت دی جائے اور عام مجرم کے مقابلے میں پولیس اہلکار کو جرم پر سخت سزا دی جائے. اپنے افسران کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بھی جعلی مقابلے میں کسی کو قتل کیا گیا تو بھی اہلکار قتل کا مرتکب ٹھریگا اور سزا پائے گا. جب محافظ شکاری اور درندے بن جائیں اور قانون کی حکمرانی نہ رہے تو اسکی جگہ جنگل کا قانون لے لیتا ہے.

١٩٩٢ میں پاکستان کے علاقے ٹنڈو بہاول کے واقعے میں جہاں نو معصوم گاؤں والوں کو فیک انکاؤنٹر میں قتل کیا گیا تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز نے مرکزی ملزم میجر ارشد کے کورٹ مارشل کا حکم دیا اور پھر سزائے موت دی.

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق کرمنل پروسیجر کوڈ ١٨٩٨، مینٹینس آف پبلک پیس آرڈیننس١٩٦٠، حالیہ پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ ٢٠١٤ سمیت دیگر کچھ قوانین میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے ورنہ انہی کی کچھ شقیں اس قانونی فریم ورک کو فائدہ دیتی آئی ہیں جو کہ پولیس کو احتساب سے بچاتی ہیں.

ریاست شہریوں کا تحفظ کرتی ہے اور قانون بناتی ہے، جسکی خلاف ورزی ہو سکتی ہے لیکن ریاست کو مجرم کو سزا دینے کیلئے موجود ہونا چاہیے. جوڈیشل اور پولیس ریفارمز کو جلد ممکن بنایا جائے, ہمارے کریمنل قوانین، پروسیجر اور پولیس قوانین پر ریاست کو نظر ثانی کرنی ہوگی ورنہ عوام میں نفرت اور قومی انتشار پھیلے گا. نقیب محسود کے کیس میں ہماری نظریں ریاست پر مرکوز ہیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے.


 نوٹ: وزیرستان ٹائمز اور اس کی پالیسی کا  بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ editor@waziristantimes.com  پر ای میل کریں۔