بھارت27فروری کو یاد رکھے!! ہمارے شاہین تیار بیٹھے ہیں‘

there-is-no-threat-to-democracy-in-pakistan-says-dg-ispr-1507989737-4976.jpg

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو خطے کی صورتحال سے آگاہ کرتا چلوں کہ خطے میں عالمی طاقتوں کے مفادات ہیں۔

بھارت میں ہٹلر کے پیروکار مودی کی حکومت ہے۔ ہماری جغرافیائی پوزیشن کو نظراندازکر کے کسی کے مقاصد پورےنہیں ہوسکتے۔ ہمارے مشرق میں ایک بڑی آبادی والا ملک بھارت ہے۔ خطے کے معاشی معاملات میں چین کا کلیدی کردار ہے۔ چین ہمارا آزمودہ دوست ہے، مسائل کے باوجود چین کے بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات ہیں۔

جنوب مغرب میں ایران ہے جس سے بھائیوں والے تعلقات ہیں، خطے کے امن کے لیے ایران کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارا ایک پڑوسی افغانستان ہے جہاں 40 برس سے جنگ ہورہی ہے وہاں ہم نے شہادتوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔

اگر ہندوستان پر نظر ڈالیں تو اس وقت وہاں نازی ازم اور آر ایس ایس کی حکومت ہے۔ بھارت میں بائیس کروڑ مسلمان، سکھ ، دلت اور دوسرے لوگ اس مائنڈ سیٹ کے ظلم وستم کا شکار ہیں۔ یہ وہی نظریہ ہے جس نے گاندھی کو قتل کیا، جس نے بابری مسجد کو شہید کیا، جس نے گجرات میں مسلمانوں کو شہید کیا۔

ایسے حالات میں مسلمانوں کو بھارت میں مذہبی اور معاشرتی آزادی نہیں ہے۔ بھارتی اقلیتیں مشکلات کا شکار ہیں۔ سیکولر بھارت انتہا پسندی کی جانب راغب ہوچکا ہے۔ بھارتی سرکار نہرو کے نظریے سے بھی گم ہو چکی ہے۔ پاکستان نے بھی پچھلے چالیس سال میں خصوصی طور پر گذشتہ بیس سال میں دہشتگردی کے ناسور کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ اس دوران بھارت کی جانب سے ہماری مشرقی سرحد کی طرف لے جانے کی کوشش کی گئی۔

لیکن اس کے باوجود اللہ کا شکر ہے کہ ہم واحد ملک اور افواج ہیں جنہوں نے ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ ہم نے ملک میں امن کی کوششیں کی اور اس کوشش میں ہمیں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خطے کے امن کی کوشش میں بھی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطہ امن کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن بھارت اس وقت نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت نے اقدام کیا وہ ایک ایسی جنگ کا بیج بو رہا ہے جس سے ایک نئی جنگ شروع کرنے کا خدشہ ہے وہاں کی صورتحال خراب ہے، وہاں نسل کشی جاری ہے سفارتی سطح پر پاکستان کشمیر کا معاملہ 50 سال بعد سلامتی کونسل میں لے کر گیا جو بڑی کامیابی ہے۔

وزیراعظم عمران کان نے تقریباً 13 ممالک کے سربراہان سے بات چیت کی ہے اور نہیں کشمیر کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں بھارت کو مخلصانہ بات چیت کی پیشکش کی تھی لیکن جواب میں مودی نے اپنے جنگی جہاز بھیجے جس کا ہم نے منہ توڑ جواب ملا ۔

اب وزیراعظم بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے بات چیت کے لیے اب یک طرفہ پیشکش نہیں ہو گی۔ اب ان تمام حالات میں اگر ہم پچھلے چند سال کے حالات پر نظر ڈالیں تو بیس سال سے بھارت نے براہ راست نہیں تو اور ذرائع سے ہم پر حملہ کیے رکھا ، کلبھوشن یادیو تازہ اور زندہ مثال ہے جو سب کے سامنے ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارا مالی اور جانی نقصان ہوا۔ ہم نے افغانستان میں امن کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔

افغانستان میں جو اس وقت پراسیس چل رہا ہے، ہماری خواہش ہے کہ وہ کامیاب ہو ۔ اگر افغان امن اعمل کامیاب ہو گیا تو ہماری مغربی سرحد پر فوج کی تعیناتی پہلے کم ہو گی پھر ختم ہو گی۔ بھارت سوچ رہا ہے کہ اگر ہماری فوج مغربی سرحد سے فارغ ہو جاتی تو کیا یہ بھارت کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے؟ اسی لیے بھارت کا یہ خیال ہے کہ مغربی سرحد سے فارغ ہو تو یہ وقت ہے کہ کوئی ایسا کام کر دیں کہ پاکستان بھرپور جواب نہ دے سکے۔

جنگیں صرف ہتھیاروں اور معیشت سے نہیں لڑی جاتیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت 27 فروری کو یاد رکھے۔ میں بھارت کو یہ بتا دوں کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں۔ جنگیں حب الوطنی کے جذبے اور سپاہی کے جذبے سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ اگر بھارت نے پھر سے ایسی کوئی حرکت کی تو ہمارے اسکوارڈن لیڈر حسن اور ونگ کمانڈر نعمان جیسے شاہین تیار بیٹھے ہیں۔