خاصہ دار فورس نے صوبائی حکومت کو 13 ستمبر تک کی مہلت دیدی

Khasadar-Leveis-core-commitee-meeting.jpg

آل فاٹا خاصہ دار فورس کمیٹی نے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کو 13 ستمبر تک کی مہلت دیدی۔

 حیات آباد کے باغ ناران میں چیئرمین سید جلال کی زیرصدارت آل خاصہ دار فورس کا ایک اجلاس ہوا جس میں تمام قبائلی اضلاع سے خاصہ دار فورس کے اہلکاروں نے شرکت کی۔

اجلاس کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام کے بعد خیبرپختونخوا حکومت اور خاصہ دار فورس نے 22 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا تھا جس کے مطابق خاصہ دار فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا تھا اور الیون کور میں صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر کی سربراہی میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ خاصہ داروں کو پولیس کی طرح مراعات اور تمام سہولیات دی جائیں گی تاہم سال گزرنے کے باوجود ایسا کچھ نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور انہیں معلوم ہوا ہے کہ صوبائی کابینہ نے خاصہ دار و لیویز ایکٹ 2019 منظور کیا ہے جسے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا تاہم وہ اس ایکٹ کو ماننے کیلئے کسی صورت بھی تیار نہیں ہیں۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں آل فاٹا خاصہ دار فورس کمیٹی کے چیئرمین سید جلال وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال سے ہم نے تمام قبائلی اضلاع میں پولیو، روزنامچوں اور اس کے ساتھ ساتھ الیکشن ڈیوٹی کی لیکن تاحال ہمیں سروس بک ملی نہ ہی دیگر مراعات۔

سید جلال وزیر کے مطابق آج کمیٹی نے 13 ستمبر کو باجوڑ میں گرینڈ جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں نومنتخب ارکان صوبائی اسمبلی، ایم این ایز، نوجوانوں اور قبائلی مشران کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ جرگہ کے سامنے حکومت اور خاصہ دار فورس کے درمیان ہوئے فیصلے کو پیش کیا جائے گا جس میں حکومت نے کہا تھا کہ خاصہ دار فورس کو مکمل طور پر پولیس میں ضم کردیا گیا ہے اور پولیس فورس کی تمام مراعات اسے دی جائیں گی۔

سید جلال  وزیر نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان و صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کی خاصہ دار فورس کو خیبر پختونخواہ پولیس میں ضم کرنا چاہتی ہیں تو ہماری جانب سے پیش کئے گئے 22 نکات پر عملدر آمد کو یقینی بنایا جائے، اگر 13 ستمبر تک ہمارے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو قبائلی اضلاع کے تمام تھانوں میں ایف آئی آر خود کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ پولیس کے جو 39 افسران و اہلکار قبائلی اضلاع و ایف آرز میں تعینات کئے گئے ہیں وہ فوری طور پر واپس چلے جائیں بصورت دیگر انکو زبردستی نکالا جائے گا۔

واضح رہے کہ کہ قبائلی اضلاع کے 25 ہزار سے زائد خاصہ دار فورس اور لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرائے گئے اور ان کے ساتھ راشن، تنخواہیں، پنشن، گاڑیاں اور دیگر مراعات دینے کے لئے وعدے کئے گئے تھے لیکن ابھی تک کسی قسم کی سہولیات اور مراعات نہیں دی گئی ہیں جس کی وجہ سے قبائلی اضلاع کی سابق خاصہ دار فورس اور لیویز فورس کے جوانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔