نجی ٹی وی چینل کے کرائم رپورٹر مشکل میں۔۔

Adil-Pervaiz.jpg

پشاور کے سنئیر صحافی عادل پرویز گذشتہ دو دہائی سے صحافت سے وابسطہ ہیں،ان کا کام ہے جرم کی رپورٹ کرنا اور پولیس کے معلومات کے مطابق مجرم کی نشاندہی کرنا۔عادل کو اکثر جرائم پیشہ لوگوں کی طرف سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔اس لیئے انہوں نے تھانہ میں رپورٹ بھی درج کرائی ہے۔ایک بار پھر عادل کو دلازاک کے علاقے میں راستہ روک کر دھمکیاں دی گئی ہے،عادل پرویز نے واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ نامعلوم افراد نے کہا کہآپ بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کےخلاف بہت کام کرتے رہے ہو۔ جس کا بدلہ تمہیں مل سکتا ہے۔ اس لئے آزادانہ گھوما پھرا نہ کرو۔ تمہیں نقصان پہنچ سکتاہے”جس کے بعد وہ چلے گئے۔
عادل پرویز نے مذید کہا کہ دونوں افراد پشتو بولتے رہے۔ جس کے بعد وہ دلہ زاک گاوں کی جانب روانہ ہوگئے۔ ایس ایچ او تھانہ چمکنی احمد اللہ کو دی گئی درخواست کے بعد واقعہ کا روزنامچہ درج ہوچکا ہے، اس سے قبل 24 دسمبر 2014 کو تھانہ فقیرآباد میں بھی ایک ایف آئی درج ہے۔ کب انہیں نامعلوم نمبرا ت سے دھمکی آمیز کالز موصول ہوئی تھیں۔ عادل پرویز کے مطابق اس سے قبل کالعدم تنظیموں کی جانب سے بھی میں بھی انہیں دھمکیاں ملتی رہیں ۔عادل پرویز کیساتھ پیش ہونے والے اس واقعے سے صحافی اور انکے اہل خانہ کو پریشانی لاحق ہے
عادل وزیرستان ٹائمز کے لیئے بلاگ بھی لکھتے ہیں۔