وادی تیرا میں منشیات کی روک تھام زعفران سے۔۔

1-copy.jpg

اسلام گل اٖفریدی
خیبرایجنسی کا کل رقبہ 257654ایکٹرہے جس کے حدود مشرق میں ضلع پشاور، مغرب میں ہمسایہ ملک افغانستان کے صوبہ ننگرھار، جنوب میں اورکزئی ایجنسی، جنوب مشرق میں کرم ایجنسی اور جنوب مشرق میں درہ آدم خیل کا علاقہ واقع ہے۔محکمہ زارعت خیبرکے مطابق ایجنسی میں 20774 ایکٹر زمین قابل کاشت ہے جبکہ 51799ایکٹر کوقابل کاشت بنایاجا سکتاہے۔ادارے کے مطابق ایجنسی میں تحصیل لنڈی کوتل، جمرود اور سب تحصیل ملاگوری کے آبادی اور رقبہ 50فیصد ہے جبکہ تحصیل باڑہ کا حصہ50فیصد ہے۔
فاٹا ڈئیزسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی ایم اے) کے مطابق ستمبر2009ء میں باڑہ میں فوجی اپریشن کی وجہ سے میدانی علاقے جبکہ چندماہ بعد پہاڑی علاقوں سے جن میں تیرہ کا علاقہ قابل ذکرہے لوگوں نے نقل مکانی کیں۔ادارے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ بے گھر خاندانوں کی رجسٹرڈ ہوئے۔ایف ڈی ایم اے کے مطابق 8جون2015ء کوبے گھر لوگوں کی واپسی کا عمل شروع ہوا۔
چھ سال بعد علاقے میں ضروریات زندگی کے تمام نظام درہم برہم ہیں۔ حکومتی سطح پر تمام اداروں نے دوبارہ آباد کاری شروع کی۔ محکمہ زراعت نے میدانی علاقوں میں 1554ایکٹرزمین کو دوبارہ قابل کاشت بنایااور اسطرح آبپاشی کے خراب نظام کو بحال کرنے کے لئے اقدمات شروع ہوئی جس کے تحت1177ایکٹرزمین زیرآب لانے کے لئے اقدمات کردئیے گئے۔دیگراقدمات کے ساتھ ادارے نے وادی تیرہ میں تجرباتی بنیاد پر ستمبر2016ء میں پانچ کنال زمین پر زعفران کاشت کیا گیا۔ خیبرایجنسی کے زرعی آفیسرفائق اقبال نے کہا کہ زعفران افغانستان، ایران، ہندوستان اور کچھ یورپی ممالک میں پیدا ہوتا ہے جبکہ پاکستا ن میں چترال اور شمالی علاقہ جات میں بہت کم پیمانے پر اس کی کاشت ہوتی ہے۔فائق کے مطابق زعفران کے لئے ٹھنڈی آب ہوا، اونچایا پہاڑی علاقہ، کم پانی اور ریتلی زمین مناسب ہوتی ہے جوکہ تقریبا وادی تیراہ میں کافی حد تک یہ چیزیں موجود ہیں۔
انھوں کہا کہ کوئٹہ کے زرعی تحقیقا تی مرکز نے اس حصے میں کچھ کامیاب تجربات کئے ہیں لیکن یہ بہت ہی مشکل فیصلہ تھا کہ ہم اس کو ایسے علاقے میں کاشت کررہے تھے جہاں پر پہلے اس کے بارے کسی نے سوچابھی نہیں تھا۔
فائق نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 2016-17کو پانچ کنا ل زمین پر اس کے کاشت کے لئے پی سی ون تیار کیا گیا جس کے تحت ایک کنا ل میں 180کلو زعفران کے بیج کے لئے تین لاکھ روپے رکھے گئے۔چونکہ پاکستان میں اس کی پیداوار اتنی بڑی پیمانے پرنہیں ہوتی ہے اس لئے اس کا بییج ہمسایہ ملک افغانستان سے برآمد کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ زعفران کا گلیٹی بویا جاتا ہے اور اس کا وزن 5گرام سے لیکر40گرام تک ہو تا ہے۔ اس میں جتنااس کا سائز بڑا ہوتا ہے اُتنا ہی اُس میں پھول زیادہ نکالتے ہیں۔فائق اقبال کے مطابق وادی تیرہ میں ملک دین خیل، شلوبرو بر قمربر خیل، آدم خیل میں زعفران کاشت کیا گیا، اس کے ساتھ نری بابا کے علاقے میں ایک نمائشی پلاٹ کاشت کیا گیا ہے جو کہ نسبتاگرم ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ ٹھنڈے اور گر م کے علاقے کے پیداور میں کیافرق ہے۔
خیبرایجنسی کے کاشتکاروں کے تنظیم کے سربرہاہ جنت گل آفریدی نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدم انتہائی اہم ہے کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے خیبر ایجنسی تحصیل باڑہ کے کاشتکاروں نے اپنے زمینوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا اور تیراہ میں زمین کو دوبارہ زیر کاشت لانے کیلئے کاشتکاورں کوزیادہ محنت اور رقم کی ضرورت ہے جو کہ اس حصے میں محکمہ زراعت کے ایسے اقدمات سے ان مسائل پر قابو پایاجا سکتاہے۔
انہوں کہا کہ پورے فاٹا میں زعفران کے کاشت کئے لئے اقدمات کرنے چائیے کیونکہ یہ ایک نقد آور فصل ہے جس سے زمینداورں کی زندگی بد ل سکتی ہے۔انھوں نے کہا چونکہ زعفران نیا فصل ہے اس لئے کے مقامی کاشتکاورں کو اس بارے میں تربیت دینے کے لئے بندوبست کرنا چاہئے تاکہ علاقے میں اس کی کاشت میں مزید اضافہ ہو جائے۔
فائق اقبال نے بتایا کہ تیراہ میں زعفران کے کاشت کے فیصلے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں پر بڑے پیمانے پر بھنگ کی کاشت ہوتا جس کی وجہ سے نہ صرف مقامی نوجوان چرس کے نشہ میں مبتلا ہوتے ہورہے بلکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بدنامی کے سبب بنا رہے۔ چونکہ مقامی لوگوں کو بھنگ یا پوست سے بڑی آمدنی حاصل ہوتی ہے جبکہ زعفران بھی ایک قیمتی فصل ہے تو ہم اس طریقے سے لوگوں کو اس طرف مائل کرسکتے ہیں کہ وہ نشہ آور فصلوں کی کاشت نہ کریں۔
انھوں نے کہا ایک تولہ زعفران کے قیمت مقا می مارکیٹ میں پانچ سے چھ ہزار تک ہے اور سطرح ایک کلوکی قیمت پانچ لاکھ بنتی ہے، اوربین الاقومی مارکیٹ میں اس کی قیمت کئی گنا زیادہ ہے۔
محمدشاہد جوکہ وادی تیراہ کے مقامی کسان ہے اور پچھلے ستمبرمیں انھوں نے اپنے زمین کے کچھ حصے پرمحکمہ زراعت کی مدد سے زعفران کی کاشت کیا ہے، انھوں نے کہا پہلی بار ایسافصل اپنے زمین پر بویا ہے کہ جس کے بارے میں اُن کو معلومات نہیں تھے۔ انھوں کہاکہ اگراس کاآمدن زیادہ ہوتا ہے تو مستقبل میں ہم بھنگ اور پوست کی کاشت نہیں کرینگے۔انھوں نے کہا زعفران گلٹی جو بوئے گئے تھے سوفصیدزمین سے نکل آئے جو کہ ایک آچھی بات ہے لیکن کئی سالوں سے مقامی مارکیٹ میں مصنوعی کھاد پر پاپندی کی وجہ سے ہم فصل سے زیادہ آمدن کی توقع نہیں کرسکتے ہیں۔
قائق اقبال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ زعفران کے پودے کی اونچائی چھ انچ ہوتی ہے اور اس کے پتے میں ربڑ کی خاصیت ہوتی ہے اور کمزور تار وں کی طرح ہوتا ہے، ایک پودوں کے درمیان فاصلہ چھ انچ ہونا چاہئے۔ اقبال کے مطابق یہ پودا دوسرے پودوں سے اس لئے مختلف ہوتا ہے اس کا پہلا پھول نکل آتا ہے اور بعدمیں پتے۔
زعفران کے حصول کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پھول میں تین گہری گلابی رنگ کے تین تارنما سٹگما ہوتے جو کہ آصل میں یہی زعفران ہے، اس کو احتیاط کے ساتھ پھول سے الگ کیا جاتا ہے اور ایک صاف کاغذ پر اس کو رکھ کر اُس کے اُوپر شیشہ رکھا جاتا ہے، جب یہ سوکھ جائے تو اُس کو ایک بڑے شیشے کے بوتل میں محفوظ کیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب تک ادارے کے طرف سے سات مرتبہ معائنہ ہو چکاہے۔ مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں اس فصل کا جائزہ لیا گیاتو معلوم ہوا کہ بیج کے گلٹیاں سائز بڑا اور تعدا میں آضافہ ہوا ہے۔انھوں کہا اس کا بیج نکل کراس کو آنے والے سیزن میں کھولے اور ٹھنڈے جگہ پر محفوظ کیا گیا ہے۔
گل محمدخان آفریدی جو کہ پیشہ کے لحاظ سے زمیندار ہے اور زعفران بیج اپنے زمین کے حصے پر بویا ہے۔ انھوں نے کہا اس فصل کے بارے میں کسی کے پاس کوئی خاص معلومات نہیں تھی، بس صرف اتنا ہے کہ زراعت کے دفتر کی طرف سے جو ہدایت ملتے ہیں اُس پر عمل کرتے ہے، انھوں نے کہا کہ اگر آنے والے وقتوں زمینداروں کو اس حوالے سے تربیت کا بندوبست کیا جائے تو اس سے ہم کافی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔
محکمہ زراعت خیبر کے مطابق زعفران سے لوگوں کے دوفائد ہونگے،ایک تو سٹگما حاصل کرکے جبکہ دوسرا یہ کہ بویا ہوا بیج ایک سیزن میں دوگنا ہوجاتا ہے۔ادارے کے طرف سے آنے والے ستمبر میں مزید پانچ کنا ل زمین پر زعفران کی کاشت کی جائے گی جس کے لئے بیج مقامی زمیندروں سے ہی خریداجائے گا۔
فائق اقبال کے مطابق علاقے میں کام کرنے والے امدادی اداروں نے زعفران کے نمائشی پلاٹ کے دورے کئے ہیں، وہاں پر فصل کی حوصلہ آفزنتائج کے بعد وہ اس بات پر تیا ر ہوئے کہ مقامی لوگوں کو ملک کے دوسرے جگہوں پر تربیت دینے کا بندوبست کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ اس فصل کی کامیابی کے لئے زیادہ قت در کار ہے اور اگرہم اس میں کامیاب ہوجاتے تو ہم منشیات کے پیداوار والے فصلو ں پر قابوپا سکتے ہیں۔
جنت گل کے مطابق تیراہ میں زراعت کی ترقی کے لئے جدید مشینری کی ضرورت ہے کیونکہ اس جدید
دور میں بھی لوگ روایتی طریقوں سے کاشتکاری کرتے ہیں۔
محکمہ زراعت اور ایک غیر سرکاری ادارے نے حالیہ ایک سروے رپورٹ میں بتایا کہ وادی تیرہ میں زیرکاشت زمین کا رقبہ 30ہزار ایکڑ سے زیادہ جس میں زیادہ تر پہاڑی اور آبپاشی کے لئے بارش کے پانی کا استعمال کیا جاتا ہے۔