وزیرستان کا ثقافی لباس “گنڑختھ”

b6d280bf-8f9f-4b7c-80c9-6257952e15bb.jpg

گنڑ ختھ خیبر پختونخواہ کے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے محسود ، وزیر ، گوربز قبیلے کی ایک روایتی لباس ہے، اور جس کپڑے سے بنتا ہے اس کو باندینہ کہا جاتا ہے مختلف رنگوں کے 30 میٹر کپڑے سے یہ ثقافتی لباس بنا ہوتا ہے.

یہ نیچے چھتری کے ڈیزائن میں بنا دیا جاتا ہے جبکہ اس کے سامنے اور پیچھے سے مختلف ٹکڑوں کے خوبصورت اور پرکشش ڈیزائن کے بنایا ہوتا ہے

اس چھوٹے چھوٹے کپڑے کے خوبصورت ڈٰزائن ٹکڑوں کو ژنڈی، گریوان، خشتکی، باچخاکینہ، لاستینخولے اور بیخچی کہتے ہے اور ساتھ ہی ساتھ چاندی کی خوبصورت ڈیزائن نما بنی ہوتی ہے جو اس پر لگائی جاتی ہے جس کو گولماخئی کہتے ہے جوکہ گنڑختھ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے گنڑ ختھ اس کا خاص کپڑا ہوتا ہے جو دبئی اور دوسرے ملکو سے آتا ہے

وزیرستانی خواتین یہ ثقافتی لباس پردی کے لئے استعمال ہوتی ہے جوکہ انتہائی معذب ہوتاہے
یہ لباس دلہن کو شادی کے وقت پہنانا ضروری سمجھتے ہے بغیرشادی شدہ عورتوں کو پہیننے کی اجازت نہیں ہوتی اور کل خرچہ اس کے بننے پر تقریباں ستر ہزار آتا ہے

نام نا بتانے کی غرض پر جنوبی وزیرستان کی ایک خاتون نے بتایا کہ لباس شادی کے بعد پہننا پرتا ہے جو بہترین پردہ سمجھا جاتا ہے لیکن آج کل اس کی مانگ اور بناوٹ میں کافی پیچھے راہ گیا اس کی وجہ آپریشن سے متاثر ہونے کے بعد دوری ہے جس کی وجہ دوری جدید کی جوان لڑکیوں میں اس کی رحجان کم ہوگئی

گل ناز بی بی جو عمر رسیدہ خاتوں ہے اور روٹین میں گنڑختھ پہتی ہے کہتی ہے کہ پرانے زمانے میں شادی کے بعد سے ابھی تک پہنتی آرہی ہے انھوں نے کہا کہ اب گنڑختھ صرف بزگ عورتوں تک محدود ہوگئی ہے جوکہ پریشان کن بات ہے ہمیں چاہیئے کہ یہ ثقافتی لباس سے نئی نشل کو اشنا کریں تاکہ ختم ہونے سے بچ سکے