قبائلی اضلاع میں پولیس میں جتنی بھی بھرتیاں ہوں وہ مقامی لوگ لئے جائیں

23ed3d05-0b3f-48c1-ad8e-95d64ffd23d7.jpg

خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے لیویز اور خاصہ دار فورس کو پولیس میں ضم کردیا ہے، مجھے امید ہے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے اور مکمل انضمام کے لئے یہ جو 6 ماہ کا وقت دیا ہے اس میں اس کام کو عملی جامہ پہنا دیا جائے گا،،

ان خیالات کا اظہار لیویز اور خاصہ دار کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ اور پولیس نظام کے بعد شمالی وزیرستان میں نئے تعینات ہونے والے ڈی ایس پی سید جلال وزیر نے پروگرام بدلون کے پینل میں ٹی این این کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران کیا۔

اس پینل میں سید جلال وزیر کے ساتھ قبائلی ضلع خیبرسے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن ڈاکٹر صبور آفریدی بھی موجود تھے۔

سید جلال وزیر نے بتایا کہ انکے مطالبے کے مطابق صوبائی حکومت 28 ہزار لیویز اور خاصہ دار فورس کو اپنے رینک کے مطابق عہدے دیئے جائیں گے۔

ڈاکٹر صبور آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ جب قبائلی اضلاع کی خیبرپختونخوا میں انضمام کی بات ہورہی تھی تو اس وقت انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ انضمام کے ان لیویز اور خاصہ دار کا مستقبل کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا لیویز اور خاصہ دار فورس کا پولیس اس وقت صحیح انضمام ہوگا جب سب اہلکاروں کو اپنے رینک کے مطابق عہدوں پر تعینات کیا جائے گا۔

ڈاکٹر صبور آفریدی نے لیویز اور خاصہ دار فورس کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ،،اندیشہ ہے کہ صوبائی حکومت نے لیویز اور خاصہ دار فورس کو وقتی طور پر چپ کرانے کے لئے ایک لالی پاپ دیا ہے لیکن اگر واقعی ایسا ہو تو اس کے نتائج بہت برے ہونگے،،

سید جلال وزیر نے کہا کہ انہوں نے اس ضمن میں آئی جی پی سے ملاقات کی جس کے دوران مختلف اضلاع کے اہلکاروں کو ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز اور باقی عہدوں کے بیجز لگا دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر کے بھی شکرگزار ہے جنہوں نے ان کو وقت دیا اور یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔

ڈاکٹر صبور آفریدی نے بتایا کہ قبائلی اضلاع کے خاصہ داروں کی تعلیم کم ہے لیکن اگر ان کو چند مہینوں تک صحیح تربیت دی جائے تو وہ اس قابل ہوجائیں گے کہ پولیس نظام میں چل سکیں،، ایسا بھی نہیں ہے کہ خاصہ داروں کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا، رپورٹ تو وہ لکھ ہی سکتے ہیں کہ فلاں بندے نے یہ کام کیا یا وہ کام کیا، خاصہ دار اور لیویز میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے ماسٹرز کیا ہے،،

ڈاکٹر صبور آفریدی نے مزید کہا کہ لیویز اور خاصہ دار فورس میں جو زیادہ تعلیم یافتہ لوگ ہیں تو انکو ہی ایڈیشنل ایس ایچ اوز اور باقی عہدے دیئے جائیں اور باہر کے لوگوں کو قبائلی اضلاع میں لانے سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ مقامی لوگ ہیں جو قبائلیوں کے رسم و رواج سے بھی باخبر ہیں۔

ڈاکٹر صبور آفریدی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا سید جلال وزیر نے بھی کہا کہ شروع میں کام سکیھنے کے لئے اگر ایڈیشنل ایس ایچ اوز ریگولر پولیس سے لئے بھی جائیں تاہم بعد میں مقامی لوگوں کو یہ عہدے دیئے جائیں کیونکہ لیویز اور خاصہ دار فورس میں ایسے اہلکار موجود ہیں جنہوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی ہے۔

انہوں نے کہا،، ہمارا ایک مطالبہ یہ بھی ہے اس کے بعد قبائلی اضلاع میں پولیس میں جتنی بھی بھرتیاں ہوں وہ مقامی لوگ لئے جائیں کیونکہ مقامی لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے، غلط اور صحیح لوگوں کو بھی پہچانتے ہیں،،

قبائلی اضلاع میں پولیس کی مخالفت کرنے والے ملکان کے بارے میں ڈاکٹر صبور آفریدی نے کہا کہ انکا بنیادی مطالبہ الگ صوبے کا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اگر کوئی پولیس نظام نافذ کرنا چاہتا ہے تو ان کےلئے الگ صوبے میں کریں، انضمام کی صورت میں ان کو پولیس قبول نہیں ہے۔

اپنے 22 نکاتی مطالبات کے حوالے سے سید جلال وزیر نے کہا کہ انکا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ 28 ہزار لیویز اور خاصہ دار کو پولیس میں ضم کرنے کے حوالے نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے جو کہ صوبائی حکومت نے پورا کردیا اس کے علاوہ باقی مطالبات پر بھی کام ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر صبور آفریدی نے کہا کہ نئی ہونے والی بھرتیوں میں قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کے ساتھ خصوصی رعایت بھرتی جائے چاہے وہ تعلیم میں ہو یا عمر کے حوالے سے ہوں۔

سید جلال وزیر نے آخر میں یہ بھی کہا کہ لیویز اور خاصہ دار فورس میں ایسے لوگ ہیں جن کی عمریں 60 سال سے اوپر ہیں تو ایسے اہلکاروں کی جگہ ان کی خاندان کا دوسرا فرد پولیس میں بھرتی کیا جائے گا اورہماری یہ بات حکومت مان چکی ہیں۔