امریکہ اور طالبان کے درمیان کچھ دنوں میں امن معاہدے پر دستخط ہونے کے امکانات

108021026_60b3d7cc-4f17-49cd-91e0-e904dc255e98.jpg

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات اسی طرح چلتے رہے تو کچھ ہی دنوں میں امن معاہدے پر دستخط ہونے کے امکانات ہیں۔

دوحہ میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سہیل شاہین نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور ہم آخری نکات پر بات چیت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ کچھ دنوں میں وہ نکات بھی حل ہو جائیں گے۔ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ تمام نکات حل ہو جائیں گے لیکن امید ہے۔ ‘

جن نکات پر بات چیت ہو رہی ہے اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ چونکہ مذاکرات ہو رہے ہیں اس لیے وہ نہیں بتا سکتے لیکن وہ اتنا بتا سکتے ہیں کہ ’تمام نکات ٹائم لائن اور عمل درآمد کے بارے میں ہیں۔’

طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے انھوں نے کہ وہ آزادانہ طور پر امریکہ سے مذاکرات کر رہے ہیں لیکن مذاکرات میں دوسرے ممالک کے کردار کی قدر کرتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ابھی تک پاکستان کی طرف سے تحریری دعوت نامہ نہیں ملا ہے اور جب بھی دعوت نامہ موصول ہو گا اُن کا وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

خیال رہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کے حالیہ دورے میں کہا تھا کہ جب وہ پاکستان واپس جائیں گے تو طالبان سے ملیں گے تاکہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو جائیں۔

افغان طالبان پر ماضی میں متعدد بار یہ الزام لگ چکا ہے کہ پاکستان اُن کی حمایت کر رہا ہے ۔ تاہم حال ہی میں پاکستان بار بار یہ کہہ چکا ہے کہ اُن کا طالبان پر ماضی کی طرح اثرورسوخ نہیں رہا۔