پولیس کانسٹیبل نے جہیز کے لیے مبینہ 6 شادیاں رچا لیں

WhatsApp-Image-2019-04-05-at-18-768x461-1.jpg

پولیس کانسٹیبل نے جہیز کی لالچ میں مبینہ طور پر چھ شادیاں رچا لیں۔ مصری شاہ کے علاقہ تیزاب احاطہ کے رہائشی پولیس کانسٹیبل فیصل یونس نے لالچ میں آ کر جہیز اور رقم ہڑپ کرنے کے لیے 6 شادیاں کرلیں۔

کانسٹیبل فیصل یونس شادی کرتا ، جہیز ہضم کرتا ، بیویوں پر تشدد کرتا اور پھر طلاق دے دیتا ہے۔
چھٹی بیوی میکلوڈ روڈ کی رہائشی آمنہ نے اپنے شوہر پر جہیز کے لیے شادیاں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ والدین نے رشتہ کروانے والی عورت کے کہنے پر مئی 2018ء میں اس کی کانسٹیبل فیصل یونس سے شادی کروا دی۔ ابتدائی چند ماہ سکون سے گزر گئے ۔

لیکن کچھ عرصہ کے بعد فیصل کی الماری سے کچھ اہم دستاویز ملنے پر معلوم ہوا کہ فیصل پہلے سے شادی شدہ ہے۔
فیصل کی سابقہ بیویوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے فیصل کے بارے میں بھیانک انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ فیصل اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نئی نئی شادیاں کر کے جہیز کا سامان ہضم کر لیتا ہے ، اپنی بیوی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ میکے سے مزید رقم لے کر آئیں۔ آمنہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس کانسٹیبل فیصل نے شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی اسے والدین کے گھر سے 60 ہزار روپے لانے پر مجبور کیا۔
میں نے پیسے لا کر دئیے تو اس سے ایل ای ڈی اور دیگر سامان خریدا گیا۔ پھر مجھ سے نئی موٹر سائیکل دلوانے کا مطالبہ کیا، جب میں نے انکار کیا تو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ فیصل نے 2004ء میں پولیس فورس جوائن کی۔ پولیس میں ہونے کی وجہ سے محلے دار اور عزیز و اقارب بھی اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت نہیں کرتے۔

فیصل نے سابقہ پانچوں بیویوں سے اشٹام پیپر پر دستخط لیے اور ان کے انگوٹھے بھی حاصل کئے جس کے بعد انہیں طلاق دے دی۔ اشٹام پیپر میں ثابت کیا کہ حق مہر ادا کردیا گیا جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔ آمنہ نے فیصل کا چہرہ بے نقاب کرنے کے لئے آئی جی پنجاب کے دفتر میں درخواست دی ۔ ایس ایس پی ڈسپلن اینڈ انسپکشن اطہر وحید نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

کانسٹیبل فیصل یونس کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی بھی سفارش کی گئی۔ انکوائری رپورٹ تیار ہوئے بھی 3 ماہ ہو گئے ہیں۔ فیصل کو بچانے کے لئے آئی جی آفس کا کلیریکل سٹاف متحرک ہو گیا اور آمنہ کو بار بار دفاتر کے چکر لگوا رہا ہے ۔ آمنہ نے بتایا فیصل اور دیگر پیٹی بھائیوں نے جہیز کا سامان واپس کرنے کی یقین دہانی کروائی لیکن وہ اصل میں معاملہ دبانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پھر کسی خاتون کی زندگی برباد کر سکیں۔ آمنہ نے مزید کہا کانسٹیبل نے میری برہنہ تصاویر بھی بنا رکھی ہیں اور وہ ہمیں بلیک میل کر رہا ہے ۔ آمنہ نے اعلٰی حکام سے انصاف کی فراہمی کی اپیل بھی کی ہے۔