ڈیرہ اسماعیل خان باپ نے اپنی جوان بیٹی کو 60 سالہ شخص کے ہاتھوں فروخت کردیا

Opera-Snapshot_2019-04-06_172840_www.urdupoint.com_.png

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک باپ نے اپنی جوان بیٹی کو 60 سالہ شخص کے ہاتھوں فروخت کردیا۔
پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کے والد سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پہاڑپور کے علاقہ بگوانی شمالی میں ایک باپ نے اپنی جوان بیٹی کو 60 سالہ بوڑھے شخص کے ہاتھوں فروخت کردیا۔

16 سالہ لڑکی نے تھانہ پہاڑ پہنچ کر پولیس کو بتایا کہ تین ماہ قبل میرے والد خادم نے مجھے محمد حسین نامی 60 سالہ شخص کے ہاتھوں فروخت کردیا اور اس سے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے وصول کیے۔ اس دوران وہ شخص مسلسل میری عصمت دری کرتا رہا۔ متاثرہ لڑکی نے کہا کہ میری عمر 15 سال ہے جو کہ شادی کی عمر بھی نہیں اور میرے باپ نے زبردستی مجھ سے ایک فارم پر دستخط بھی لیے۔

پولیس نے لڑکی کی رپورٹ پر بروقت کارروائی کی اور اس کے والد سمیت واقعہ میں شامل 5 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔ پلویس نے کارروائی کرتے ہوئے اس کے والد، خریدنے والے شخص محمد حسین اور ’ڈیل‘ میں شامل تیسرے شخص نذیر کو گرفتار کرلیا ہے ۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کم عمر شادیوں کا رجحان اب بھی کئی شہروں میں پایا جاتا ہے جن میں سے کئی کیسز رپورٹ ہونے پر منظر عام پر آجاتے ہیں لیکن کچھ لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہوتا۔

ایسی لڑکیوں کے والدین انہیں پیسوں کے عوض لوگوں کے آگے فروخت کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں فیروز والہ میں ایک باپ کی جانب سے سگی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا افسوسناک واقعہ بھی سامنے آیا تھا۔ سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے میں موجود ایسے گھناؤنے اور سفاک لوگوں کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے حوالے کرنا چاہئیے اور کم سن بچیوں کو ایسے درندوں سے بچانا چاہئیے۔