خیبرپختونخوا حکومت نے آئس و دیگر منشیات کی روک تھام کے لئے نیا قانونی مسودہ تیار

image-20160706-814-1jt1j3b.jpg

خیبرپختونخوا حکومت نے آئس اور دیگر منشیات کے خلاف قانونی مسودہ تیار کرلیا ہے جس میں آئس کی خرید و فروخت پر زیادہ سے زیادہ 14 سال قید، 10 سال قید اور سزائے موت کی سزا تجویز دی گئی ہے، 100 گرام آئس پر7 سال قید اور3 لاکھ روپے جرمانہ کی تجویز بھی اس مسودے میں شامل ہے۔

دستاویزات کے مطابق منشیات بنانے والے اور اس کی خرید و فروخت میں ملوث لوگوں کو 25سال قید کی سز ا تجویز کی گئی ہے اس کے علاوہ منشیات کی خرید و فروخت میں کمائے گئے پیسے اور جائیداد بھی ضبط کیا جائے گا۔

منشیات کی روک تھام کے لئے نارکاٹکس کنٹرول فورس اور منشیات سے متعلق مقدمات کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی تجویز بھی بل میں شامل ہے جبکہ صوبہ بھر میں منشیات کے عادی افراد کی رجسٹریشن سمیت سرکاری خرچہ پر علاج کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق دور حکومت میں بھی منشیات کے خلاف بل ایوان میں پیش کیا گیا تھا مگر اسمبلی میں کم وقت رہنے اور بل کے مسودہ میں آئس نشہ اور خرید وفرخت کرنے والوں کیلئے سزاؤں کی مدت نہ ہونے کی وجہ سے ایوان سے پاس نہیں ہوسکا تھا۔