افغان مہاجرین کوبینک اکاؤنٹس کھولنےکی اجازت

Imran-Khan.jpg

پاکستان نے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر رجسٹرڈ مہاجرین کو اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی گئی، وزیراعظم عمرا ن خان نے کہا کہ افغان مہاجرین اب پاکستانی معیشت کا باضابطہ حصہ بن سکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان میں موجود رجسٹرڈ مہاجرین بینک اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین اب پاکستان کی معیشت کا باضابطہ حصہ بن سکتے ہیں۔

افغان مہاجرین کو بینک اکاؤنٹس کھلوانے کا فیصلہ بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بینکوں کو بھی ہدایت نامہ جاری کردیا گیا ہے ۔ جس میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

واضح رہے وزارت سرحدی امورکا کہنا ہے کہ ملک بھر میں غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے تحت 8 لاکھ 89 ہزار مہاجرین کو رجسٹرڈ کیا ہے۔

ڈائریکٹر چیف کمشنر آفس برائے افغان مہاجرین شینہ نے پچھلے مہینے تین جنوری کو گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت سیفران نے نادرا کے تعاون سے ملک بھر میں غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل 18-2017ء میں شروع کیا تھا جس سے ملک بھر میں 8 لاکھ 89 ہزار افغان مہاجرین کو رجسٹرڈ کرکے اسے سی سی کارڈ جاری کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نادرا نے رجسٹریشن کرنے کے لئے ملک بھر میں 22 مراکز قائم کئے تھے ۔
رجسٹریشن کا عمل اگست 2017ء میں شروع ہوکر مارچ 2018ء میں ختم ہوا ہے۔

رجسٹریشن کے عمل سے ملک بھر میں غیر قانونی طور پر قیام پذیر افغان مہاجرین کو رجسٹرڈ کیا ہے۔ اسی طرح قوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے زیراہتمام پاکستان سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کا عمل تین ماہ کے تعطل کے بعد اب یکم مارچ 2019ء سے دوبارہ شروع ہوگا۔

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین صوبہ خیبرپختونخواہ میں اضاخیل اور نوشہرہ جبکہ بلوچستان میں بلیلی اور کوئٹہ کے مقامات پرقائم رضاکارانہ وطن واپسی کے مراکز وی سی آرز سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کرے گا۔