نشتر ہسپتال سے ایک اور ‘جعلی ڈاکٹر’ گرفتار

9cdaa5b7-b973-405f-8cdc-4b35dffd697e-2.jpg

ملتان میں نشتر ہسپتال سے ایک اور جعلی ڈاکٹر گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد اس ہسپتال سے گرفتار جعلی ڈاکٹروں کی تعداد 8 ہوگئی۔

ہسپتال کے چیف سیکیورٹی افسر صباحت شیر خان نے پولیس کو اطلاع دی کہ معائنہ کرنے کے لیے ایک ٹیم نے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کا دورہ کیا جہاں جاوید اقبال نامی ایک شخص وارڈ میں آیا اور خود کو سرجری کا ڈاکٹر بتایا۔

مذکورہ شخص نے اپنا سروس کارڈ بھی دکھایا تاہم جب ہسپتال کا ریکارڈ دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ ہسپتال کے سرجری ڈپارٹمنٹ میں اس نام کا کوئی ڈاکٹر نہیں۔

مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ وہ خود کو ڈاکٹر بتا کر نشتر ہسپتال کے اسٹاف سے مریضوں کے مفت میڈیکل ٹیسٹ حاصل کرتا تھا اور مریضوں اور ان کی عیادت کرنے والوں کو نجی ہسپتال منتقل کرنے پر آمادہ کرتا تھا جہاں سے وہ کمیشن حاصل کرتا تھا۔

واضح رہے کہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا نے جعلی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ایک نگراں کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق اس ہسپتال سے اب تک 8 جعلی ڈاکٹروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔