بھارت کے زیر تسلط کشمیر ، اگست 2019

Bushra-Iqbal-WT-PIC.jpg

بھارت کی نسل پرست قیادت کے قیامت خیز فیصلے سے شروع ہوتی ہے ایک طویل، تاریک رات۔۔۔ جس میں اگر کوئی ستارہ چمکتا بھی ہے تو وہ شہادت کا جام نوش کر لیتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں سیاسی قیادت زیر حراست ہے۔ ابلاغ کے تمام ذرائع بند ہیں۔ ہر آٹھ سے دس کشمیری مسلمانوں پر ایک بھارتی مسلح سپاہی تعینات ہے۔ کرفیو نے انسانی المیے کی شکل اختیارکر لی ہے، پانی، دودھ، خوراک،ادوایات اور دیگر ضروریات زندگی کا حصول ناممکن ہے۔ یہ سطورلکھنے تک کرفیو لگے تیس دن ہو چکے ہیں

پاکستان کا کردار کیا ہے؟

عوامی سطح پر اس بارے میں ایک واضع بے چینی پائی جاتی ہے، ہر فرد کشمیر کے مظلومین کے بارے میں فکرمند ہے ۔ سب کے پاس سوال ہیں،پاکستان کا کردار کیا ہے؟ کیا تھا؟ کیا ہوگا؟

ایک نظریہ یہ ہے کہ دہائیوں سے پاکستان کشمیر پر صرف باتیں کر رہا تھا، وہ بھی اپنے ڈرائینگ رومز میں بیٹھ کر
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ ہم نے کشمیر پر بھارت سے چھوٹی بڑی جنگیں لڑی ہیں
تیسرا نظریہ یہ ہے کہ ہم نے سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی ہے، مسلئہ کشمیر کو زندہ رکھا ہے

اس کے علاوہ کئی ایک بیانئے سامنے آتے رہتے ہیں جس میں سازشی تھیوری پیش کی جاتی ہے، جیسا کہ کشمیر کا معاملہ فوج حل نہیں کرنے دیتی تا کہ بجٹ پر سوال نا اٹھایا جائے یا یہ کے سیاسی قیادت نے کشمیر پر سعدا بازی کر لی ہے۔
اس وقت پاکستان میں ایک ایسی سیاسی جماعت کی حکومت ہے جس کا حکومت سازی کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں ہے اس لئے ہم کشمیر کاز پر گرفت نہیں کر پا رہے۔

اب یہ بات تو طے ہے

پاکستان کی داخلی صورت حال اس وقت اس قابل قظعی نہیں کہ وہ براہ راست پانچ گنا بڑے ملک پر حربی حملہ کر دے۔ لیکن اس کے ساتھ پاکستان کے پاس یہ امکان بحرحال موجود ہے کہ حملے کی صورت میں بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

عرب ممالک کی قیادت کی سرد مہری نے ” مسلم امہ” کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے، اب بنیاد پرست جماعتوں کے نعروں میں بھی دم نہیں رہا۔ اس کے باوجود ملک میں بڑی تیزی کے ساتھ مذہبی جھکاو میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس بار اس میں تبلیغ، جہاد وغیرہ سے زیادہ جبلت کا احساس غالب ہے۔کسی بڑے گروہ سے وابستگی کا احساس ایک تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خوف کے زمانے میں الہامی مدد کی طلب بھی ایک محرک ہے۔

پاکستان کی سابقہ تمام حکومتوں سے بھی شکوے کئے جا سکتے ہیں کہ انہوں نے قبل از وقت کیوں کشمیر پر کام نہیں کیا اور موجودہ حکومت سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے آخرکب تک صرف مذمتی بیان اور احتجاج کا لالی پاپ دے کر عوامی غصے کو بہلایا جاتا رہے گا؟
بڑی طاقتوں میں چین براہ راست ہمسایہ ہونے کا ناطے اس تنازعہ میں شریک تو نہیں لیکن اس کے منطقی انجام میں اپنے حصے کی توقع ضرور رکھتا ہے۔ لداخ اور تبت کی حیثیت سے چین کی سرحدی معاملات وابستہ ہیں۔

ایران کی قیادت کا بیان واضع ہے لیکن امریکہ کی طرف سے پابندیوں میں جکڑا ہوا ایران بہت سے معاشی و کاروباری معاملات میں بھارت پر انحصار کرتا ہے جیسا کی تیل کی محدود فروخت یا چاہ بہار کی بندر گاہ وغیرہ۔

روس اور یورپی ممالک میں ایک قرد مشترک ہے سب کشمیرپر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں، اور اونٹ کے کروٹ لینے پر کھل کر سامنے ائیں گے۔

رہ گیا امریکہ تو افغان امن عمل میں مصروف امریکی قیادت خطے میں ابھی کسی کو اپنے خلاف نہیں کرنا چاہتی۔ چین کی معاشی کامیابیوں کو توڑنے کے لئے اسے ایک معاشی حلیف بھارت کی صورت میں دستیاب ہے اور پاکستان کی معاشی حالت دگرگوں ہے ۔
اس صورت حال میں دعا کی جاسکتی یا جہاں موقع ملے کشمیر کے مظلوموں کے لئے آواز بلند کی جائے۔