جنگ، جنون اور وزیرستان


جنگ کے شوقین، ایک چکر وزیرستان کا لگا کر دیکھیں۔ شاید ان کے اس جنگی جنون میں کچھ کمی ہو جائے۔ اس شوق جہاد میں بھی آفاقہ ہو جو کمپوٹر سکرین کے پیچھے اور ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ابل رہا ہے۔ 
جنگ کبھی بھی خوش کن نہیں تھی لیکن آج کل کی جدید جنگ تو مہلک ترین ہے۔ کیونکہ مارنے والا بعض اوقات ہزاروں میل کی دوری سے بس ایک بٹن دباتا ہے اور بارود پھٹ کر ہستی بستی آبادیوں کو کھنڈر بنا دیتا ہے۔ گولہ بارود کو نا تو عوامی اور عسکری آبادیوں میں تمیز ہوتی ہے نا ہی اسے مسلح اور غیر مسلح میں فرق نظر اتا ہے۔ اسے فوجی جوان اور بچوں میں سے کسی کا انتخاب کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس لئے جب دھماکے ہوتے ہیں،بم پھٹتے ہین، گولی چلتی ہے تو اس کی زد میں آجا ئے وہ تباہ ہو جاتا ہے۔ 

شکر ہے پاکستان کی سیاسی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک ہے اسی لئے وزیراعظم نے اپنے مختصرخطاب میں نریندر مودی کو بھی انتباہ کیا ہے، جنگ کے اندازے کبھی صحیح نہیں ہوتے۔ اور اس کی تباہ کاریوں کو روکنا کسی فرد کے بس میں نہیں رہتا۔ ہم اپنے دفاع کے لئے تیارضرور ہیں، لیکن ہم امن کو اولیت دیتے ہیں۔ 
پاکستان کے قبائلی علاقوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جس اذیت کا سامنا کیا ہے، ان کی نسلیں اس کرب کو نہیں بھول پائیں گی۔ جہازوں کی گھن گرج آج بھی بچوں کو خوفزدہ کر دیتی ہے۔ مائیں اب بھی آسمان کی طرف دیکھ کی سہم جاتی ہیں۔ گھروں کی چھتیں ابھی مکمل بحال نہیں کی جا سکیں۔ گلیوں میں بارودی سرنگوں کے خطرات ابھی باقی ہیں۔ 

معاشی سرگرمیوں کو ابھی اپنی مکمل بحالی کے لئے وقت چاہئے، کیونکہ بہت سے کمانے والے یا تو جنگ کی نظر ہو گئے، یا معذور اور کوئی در بدر۔ کھیتوں کو آباد ہونے میں بھی وقت لگے گا، ابھی تو ہل چلاتے ہیں تو میزائیل اور بارود نکل آتا ہے۔ 
بچے اسکول بھی جائیں گے لیکن پہلے پانی کے چشمے اور کنویں تو صاف ہو جائیں جن کا پانی زہریلا ہو گیا ہے۔ 
جنگ تو ایسی ہی ہے جو تباہی کے ایک نا ختم ہونے والے سلسلے کو جنم دیتی ہے۔ جو ملکوں کو صدیوں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ 
سرحد کے دونوں طرف عوام کو زندہ رہنے، اور ترقی کرنے کا حق حاصل ہے۔ کشمیر کے عوام کی ان کا حق آزادی بھی ملنا چاہئے۔ لیکن اس کے لئے جنگ نہیں مذاکرات ضروری ہیں