ایک آتش فشاں کے دہانے پر

Bushra-Iqbal.jpg

بشریٰ اقبال

ایک بار پھر سے بھارت نے طبل جنگ پیٹنا شروع کر دیا ہے۔ اس کا خدشہ پچھلے سال سے ظاہر کیا جا رہا تھا۔ کشمیر میں فوجی زیادتیوں کے لئے دہلی کی ہلہ شیری میں شدت آ رہی تھی، مودی سرکار کو اندرونی طور پر نا صرف تنقید کا سامنا تھا بلکہ کشمیر پر قبضے کی مخالفت بھی جاری تھی۔ کانگرس اور دیگر جماعتیں مودی کے طریقہ واردات سے آگاہ ہیں کہ جیسے جیسے الیکشن قریب آئے گا بھارتیا جنتا پارٹی ھندو انتہا پسندی کا شور بڑھا دے گی۔

اور بی جے پی کو بھارت کے سیکولر سماج میں انتہا پسندی باقاعدہ حکومت کے بینر تلے پھیلانے کے الزام کا بھی سامنا ہے۔ درمیانی مدت کے چناو میں مودی کی مقبولیت کی قلعی بھی کھل گئی اور بی جے پی کا مضبوط لیڈرشپ میں دراڑ نظر انے لگی ہے۔

پلوامہ کا واقعہ نے گویا ان تمام خدشات کو سچ ثابت کر دیا۔ بھارت نے پاکستان کو الزام دیا اور مودی کے ارد گرد کھڑی بونی قیادت اپنے ڈوبی سیاست چمکانے کے لئے بڑھ چڑھ کر بیان دینے لگے۔  اور بھارتی عوام پاکستان دشمنی کے جھانسے میں آنے لگی۔

افسوسناک صورت حال ہے۔ بھارتی معاشرہ آزادی سے آج تک خود کو سیکولر، جمہوری سماج گردانتا ہے۔ لیکن اچانک ایسا کیا ہوا ہے کہ ان کی معاشرتی بنت کے تانے بانے میں تشدد کا عنصر ابھر آیا ہے؟

گائے کی حفاظت کے نام پے ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کو قتل کے واقعات، اچھوت ذات کے افراد کا جینا دوبھر، ہر روز کئی ایک پر حملہ، نچلی ذات کے ( دلت) گھروں، دکانوں کا جلاو گھیراو، اور ان کی عورتوں کا اغوا، آبرو ریزی  وغیرہ میں مسلسل اضافہ بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ سیکولر اور جمہوری بھارت کا انتہا پسند، تشدد پسند، خونیں چہرہ ہے۔ جس پر کئی سوال بنتے ہیں۔

پاکستان کو پچھلے تین دہایوں سے ایک غیر رسمی دھشت گردی کی جنگ کا سامنا رہا ہے،یہاں پے در پے ماشل لاء بھی لگے ہیں، جمہوری روایات ابھی کلچر میں نہیں بدل سکیں۔ یہاں تصادم، تشدد یا انتہا پسندی کے جذبات کا پس منظر سمجھ آتا ہے۔ لیکن انہی سب وجوہات نے پاکستانی معاشرے کو قوت برداشت بھی دی ہے اور حوصلہ بھی۔

بھارتی سماج میں تشدد، عدم برداشت اور زبردستی نے ان کے متوازن نظر آنے والے رول ماڈل  جن کی مثالیں دی جاتی ہیں، کو بھی متاثر کیا ہے۔ اداکار، شاعر، ادیب یا تو یہ کہنے پر مجبور نظر آرہے ہیں کہ ان کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے یا ان کی جانب سے پاکستان دشمنی ، کشمیر مخالف باتیں سامنے آرہی ہیں۔ یہ وقت پاکستان کی نبض پر ہاتھ رکھنے والوں کے لئے ایک موقع ہے کہ وہ مستقبل میں جمہوریت کے تسلسل میں سماجی رویوں کی پرورش میں دھیان رکھیں، کبھی کبھی جمہوریت میں بھی آگ اندر اندر سلگتی رہتی ہے اور موقع ملتے ہی بھڑک کر آلاو جلا دیتی ہے۔