جمہوریت جاری رہے گی

بشریٰ اقبال
پانامہ کا فیصلہ صحیح آیا یا نہیں، یہ ٹیکنیکی ماہرین ہی صحیح طور پر سمجھا سکتے ہیں۔ عام آدمی کے لئے ملک کے منتخب وزیراعظم کو اعلیٰ عدلیہ نے صادق اور امین نا پاتیہوئے نااہل قرار دے دیا ہے۔ نواز شریف عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہدے سے سبگدوش ہو گئے۔
پہچھے رہ گئی ایک نا ختم ہونے والی بحث۔ کیا منتخب حکومتیں اسی طرح دباو میں رہیں گی؟ کیا کوئی منتخب وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے گا؟ کیا نواز شریف کے خلاف کوئی سازش ہوئی؟ کیا عدلیہ کو وزیراعظم کو فارغ کرنے کا اختیار ہے؟ مسلم لیگ (ن) کا مستقبل کیا ہے؟ دوسری سیاسی جماعتوں اور قائدین کے ساتھ کیا ہوگا؟ عمران خان کی سیاست کا اب محور کیا رہ گیا ہے؟ اگلی نا اہلی عمران خان یا جہانگیر ترین کی ہے؟
سوال بے شمار ہیں۔ بڑے فیصلے اپنے اثرات کے دیر پا نقوش سے پہچانے جاتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فیصلہ صحیح تھا یا اس میں گنجائش نکل سکتی تھی۔
اصل بات صرف اتنی ہے کہ جمہوریت عوام سے ہے۔ اور پاکستانی عوام اس جمہوری عمل سے آہستہ آہستہ روشناس ہوتی جا رہی ہے۔ کیونکہ ترپ کا پتا ہمیشہ ان کے ہی ہاتھ میں رہے گا۔ وہ جسے چاہے چن لیں۔ جسے چاہے اگلا مینڈیٹ دے دیں۔ جس کے پیچھے اصلی عوامی طاقت ہوگی امید ہے اسے کوئی کسی سازش سے ہٹا نہیں سکے گا۔ کیونکہ اب عوام اپنے حقوق پر کسی کو مسلط ہوتا برداشت شاید نہیں کریں گے۔
کرنا بس اتنا ہے کہ اگلے الیکشن میں ذات، برادری، رعب دبدہ، روایتی امیدوار کے بجائے امیدوار کے کردار، سمجھ بوجھ، پارٹی کے منشور اور ماضی کی کارکردگی کع چھان پٹک کر ووٹ ڈالیں۔ اور ووٹ ضرور ڈالیں۔
حکومتوں کے لئے بھی یہ فیصلے ایک انتباہ ہیں۔ اب عوام کو گڈ گورنس چاہئے۔ صرف تقریریں نہیں۔